حدیث نمبر: 7773
أخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب، أخبرنا خالد، عن أبي المليح، عن نُبَيشةَ قال: سأل رجلٌ النبيَّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، إِنَّا كُنَّا نَعتِرُ عَتِيرةً في الجاهلية في رجبٍ، فما تأمرُنا؟ فقال رسول الله ﷺ: "اذْبَحُوا للهِ في أيِّ شهرٍ ما كان، وبَرُّوا اللهَ وأطعِمُوا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7582 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم دورِ جاہلیت میں ماہِ رجب میں «عَتِيرة» (ایک مخصوص قربانی) کیا کرتے تھے، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کے لیے کسی بھی مہینے میں ذبح (قربانی) کرو، اور اللہ کے لیے نیکی کرو اور (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الذبائح / حدیث: 7773
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه» [ترقيم الرساله 7773] [ترقيم الشركة 7681] [ترقيم العلميه 7582]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه. أبو المليح هو ابن أسامة بن عمير الهذلي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند پچھلی سند کی طرح قوی ہے۔ ابو الملیح سے مراد عامر بن اسامہ بن عمیر الہذلی ہیں۔
وأخرجه أحمد 34/ (20723) و (20727) و (20729)، وابن ماجه (3160)، والنسائي (4541) و (4542) و (4543) من طرق عن خالد بن مهران الحذاء، بهذا الإسناد. ووقع في رواية النسائي الأولى: وربما قال -يعني خالدًا الحذاء-: عن أبي المليح، وربما ذكر أبا قلابة عن نبيشة. ووقع في رواية أحمد الثالثة ورواية النسائي الثانية: عن خالد عن أبي قلابة عن أبي المليح، قال خالد: وأحسبني قد سمعته من أبي المليح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 34/ (20723، 20727، 20729)، ابن ماجہ (3160) اور نسائی (4541، 4542، 4543) نے خالد بن مہران الحذاء کے مختلف طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: نسائی کی پہلی روایت میں ہے کہ خالد الحذاء کبھی "عن ابی الملیح" کہتے اور کبھی "ابو قلابہ عن نبیشہ" کہتے۔ احمد کی تیسری اور نسائی کی دوسری روایت میں "خالد عن ابی قلابہ عن ابی الملیح" مروی ہے، جس پر خالد الحذاء فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے میں نے اسے براہِ راست ابو الملیح سے بھی سنا ہے۔
وأخرجه أحمد (20726)، والنسائي (4540) من طريق عبد الله بن عون عن جميل غير منسوب، عن أبي المليح، به. وجميل هذا تفرد بالرواية عنه ابن عون، وقال ابن حبان بعدما ذكره في كتابه "الثقات": لا أدري من هو ولا ابن من هو!
حوالہ / مصدر: امام احمد (20726) اور نسائی (4540) نے عبداللہ بن عون کے طریق سے ایک غیر منسوب راوی "جمیل" سے، انہوں نے ابو الملیح سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: جمیل نامی راوی سے روایت کرنے میں ابن عون منفرد ہیں، اور امام ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" میں ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: "میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہیں اور کس کے بیٹے ہیں"۔
وأخرجه أبو داود (2830) من طريق بشر بن المفضل، والنسائي (4544) من طريق إسماعيل ابن عليّة، كلاهما عن خالد الحذاء، عن أبي قلابة -عبد الله بن زيد الجرمي- عن أبي المليح، به.
حوالہ / مصدر: امام ابو داود (2830) نے بشر بن مفضل کے طریق سے، اور امام نسائی (4544) نے اسماعیل بن علیہ کے طریق سے، یہ دونوں خالد الحذاء سے، وہ ابو قلابہ (عبداللہ بن زید الجرمی) سے اور وہ ابو الملیح سے روایت کرتے ہیں۔
وزاد في رواية النسائي: فلقيت أبا المليح فسألته، فحدثني عن نبيشة، فذكره.
تفصیلِ روایت: امام نسائی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ (ابو قلابہ نے کہا): "پھر میری ملاقات ابو الملیح سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا، انہوں نے مجھے حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ حدیث سنائی"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7773 سے ماخوذ ہے۔