کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اس شخص کے لیے سخت وعید جس کے پاس مال ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا عبد الله بن عيَّاش، حدثنا عبد الرحمن الأعرَج، عن أبي هريرة قال: قال النبيُّ ﷺ: "مَن كان له مالٌ فلم يُضحِّ، فلا يَقرَبَنَّ مُصلَّانا". وقال مرةً: "مَن وَجَدَ سَعَةً فلم يَذبَحْ، فلا يَقرَبنَّ مُصلَّانا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7565 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس مالی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہرگز ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔“ اور ایک مرتبہ (ان الفاظ میں) فرمایا: ”جس نے گنجائش پائی اور قربانی نہ کی، تو وہ ہرگز ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7756
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا على أبي هريرة
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا على أبي هريرة، وهذا إسناد ضعيف مرفوعًا من أجل عبد الله بن عياش، وسلف الكلام عليه برقم (3509)» [ترقيم الرساله 7756] [ترقيم الشركة 7664] [ترقيم العلميه 7565]
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الله بن عيَّاش، أنَّ عبد الرحمن الأعرج حدَّثه عن أبي هريرة قال: مَن وَجَدَ سَعَةً فلم يُضحِّ معنا، فلا يَقرَبنَّ مُصلَّانا (1). أوقَفَه عبدُ الله بن وهب، إلَّا أنَّ الزيادة من الثقة مقبولةٌ، وأبو عبد الرحمن المُقرئ فوقَ الثقة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (انہوں نے فرمایا): ”جس نے گنجائش پائی اور ہمارے ساتھ قربانی نہ کی، وہ ہرگز ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔“
عبداللہ بن وہب نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، مگر ثقہ راوی کی طرف سے بیان کردہ اضافہ مقبول ہوتا ہے، اور ابو عبدالرحمن المقرئ ثقہ سے بھی بڑھ کر (عظیم المرتبت) راوی ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7757
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه» [ترقيم الرساله 7757] [ترقيم الشركة 7665]
أخبرني الأستاذ أبو الوليد وأبوبكر بن عبد الله، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أبي، حدثنا عُتْبة بن عبد الملك السَّهْمي، أنَّ زُرَارة بن كَرِيم بن الحارث بن عمرو حدَّثه، أنَّ الحارث بن عمرو حدَّثه عن النبيِّ ﷺ قال: "مَن شاءَ فَرَّعَ ومَن شاءَ لم يُفرِّعْ، ومَن شاءَ عَتَرَ ومَن شاءَ لم يَعتِرْ، وفي الغنم أُضحيَّتُها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7567 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو چاہے «فَرَّعَ» (اونٹنی کا پہلا بچہ بتوں کے نام پر ذبح) کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور جو چاہے «عَتَرَ» (ماہِ رجب کی مخصوص قربانی) کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور بکریوں میں ان کی قربانی (ہی مسنون) ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7758
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، عتبة بن عبد الملك السهمي روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع، وزرارة بن كريم قيل: له رؤية، وقد روى عنه جمع أيضًا وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال: من زعم أنَّ له صحبة فقد وهمَ» [ترقيم الرساله 7758] [ترقيم الشركة 7666] [ترقيم العلميه 7567]