أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدّثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي. وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن أبي نصر المروَزيّ، قالا: أخبرنا محمد بن غالب، حدّثنا أبو حُذيفة، حدّثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن زيد بن يُثَيع، عن علي بن أبي طالب: أنَّ النبيَّ ﷺ بعثه يومَ الحجّ الأكبر بأربع: أن لا يطوفَ أحدٌ بالبيت عُرْيان، ولا يدخلَ الجنَّةَ إلا نفسٌ مُسلِمة، ولا يَحُجَّ مشركٌ بعد عامِه هذا، ومن كان بينه وبينَ رسولِ الله ﷺ، عهدٌ، فأجَلُه إلى مُدَّتِه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7354 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7354 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں حجِ اکبر کے دن چار باتوں کے ساتھ (اعلان کے لیے) بھیجا: یہ کہ بیت اللہ کا طواف کوئی برہنہ شخص نہ کرے، جنت میں صرف وہی جان داخل ہوگی جو مسلمان ہو، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، اور جس کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی عہد (معاہدہ) ہے تو اس کی رعایت اس کی مقررہ مدت تک رکھی جائے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کی شاہد حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کی شاہد حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدّثنا وهب بن جَرير وسعيد بن عامر، قالا: حدّثنا شُعبة، عن المغيرة، عن الشَّعبيّ، عن مُحرَّر بن أبي هريرة، عن أبيه قال: كنتُ مع علي بن أبي طالب حينَ بعثَه رسولُ الله ﷺ إلى أهلِ مكةَ ببراءةَ، فقيل: ما كنتم تُنادُون؟ فقال: كُنَّا نناديّ: أنه لا يدخلُ الجنَّةَ إلّا نفسٌ مؤمنة، ولا يطوفُ بالبيت عُرْيانٌ، ومن كان بينه وبينَ رسولِ الله ﷺ عهدٌ، فأجَلُه ومدّةُ عهدِه إلى أربعة أشهر، فإذا مضت الأربعةُ الأشهرِ، فإِنَّ الله بريءٌ من المشركين ورسولُه، ولا يَحُجُّ بعد العام مشركٌ، فكنتُ أنادي حتى صَحِلَ صوتي (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7355 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7355 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
محرر بن ابوہریرہ اپنے والد (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں سورہ براءت (کا پیغام) دے کر مکہ والوں کی طرف بھیجا۔ ان سے پوچھا گیا: آپ لوگ کیا پکار کر اعلان کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم یہ پکار رہے تھے کہ جنت میں صرف مومن نفس ہی داخل ہوگا، بیت اللہ کا طواف کوئی برہنہ نہ کرے، اور جس کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ تک ہے، پھر جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری الذمہ ہیں، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، میں یہ اعلان کرتا رہا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔