المستدرك على الصحيحين
كتاب اللباس— لباس کے متعلق روایات
لَا يَطُوفُ أَحَدٌ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ باب: کوئی شخص بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر نہ کرے
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدّثنا وهب بن جَرير وسعيد بن عامر، قالا: حدّثنا شُعبة، عن المغيرة، عن الشَّعبيّ، عن مُحرَّر بن أبي هريرة، عن أبيه قال: كنتُ مع علي بن أبي طالب حينَ بعثَه رسولُ الله ﷺ إلى أهلِ مكةَ ببراءةَ، فقيل: ما كنتم تُنادُون؟ فقال: كُنَّا نناديّ: أنه لا يدخلُ الجنَّةَ إلّا نفسٌ مؤمنة، ولا يطوفُ بالبيت عُرْيانٌ، ومن كان بينه وبينَ رسولِ الله ﷺ عهدٌ، فأجَلُه ومدّةُ عهدِه إلى أربعة أشهر، فإذا مضت الأربعةُ الأشهرِ، فإِنَّ الله بريءٌ من المشركين ورسولُه، ولا يَحُجُّ بعد العام مشركٌ، فكنتُ أنادي حتى صَحِلَ صوتي (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7355 - صحيحمحرر بن ابوہریرہ اپنے والد (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں سورہ براءت (کا پیغام) دے کر مکہ والوں کی طرف بھیجا۔ ان سے پوچھا گیا: آپ لوگ کیا پکار کر اعلان کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم یہ پکار رہے تھے کہ جنت میں صرف مومن نفس ہی داخل ہوگا، بیت اللہ کا طواف کوئی برہنہ نہ کرے، اور جس کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ تک ہے، پھر جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری الذمہ ہیں، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، میں یہ اعلان کرتا رہا یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے اور محرر بن ابی ہریرہ کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: البتہ ان کی روایت میں یہاں اس قول کے اعتبار سے نکارت (خرابی) واقع ہوئی ہے: "جس کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان عہد تھا، تو اس کی مدت اور عہد کی میعاد چار ماہ تک ہے"، جیسا کہ ہم نے اسے پچھلی روایت نمبر (3314) میں واضح کر دیا ہے۔