المستدرك على الصحيحين
كتاب البر والصلة— نیکی اور بھلائی کے کام
دَاءُ الْأُمَمِ الْأَشَرُ وَالْبَطَرُ باب: امتوں کی بیماری حد سے بڑھی ہوئی خوشی اور تکبر ہے
حدیث نمبر: 7500
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدّثنا إبراهيم بن الحسين، حدّثنا آدم بن أبي إياس، حدّثنا شُعبة، عن أبي بَلْج يحيى بن أبي سُليم، قال: سمعت عَمرو (1) بن ميمون، يحدّث عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن سرَّه أن يَجِدَ طعم الإيمان، فليُحِبَّ المرء لا يُحِبُّه إلا الله ﷿" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7312 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کی حلاوت (ذائقہ) پا لے، اسے چاہیے کہ وہ کسی شخص سے صرف اللہ کی رضا کے لیے محبت کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عُمر.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عمر" بن گیا ہے۔
(2) حديث حسن من أجل أبي بلج، وعبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنّف - وإن كان فيه ضعف - متابع. وقد سلف برقم (3).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "ابو بلج" کی وجہ سے حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبد الرحمن بن الحسن (جو مصنف کے شیخ ہیں) - اگرچہ ان میں ضعف ہے - لیکن وہ "متابع" ہیں (یعنی ان کی تائید موجود ہے)۔ یہ روایت نمبر (3) پر گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عمر" بن گیا ہے۔
(2) حديث حسن من أجل أبي بلج، وعبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنّف - وإن كان فيه ضعف - متابع. وقد سلف برقم (3).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "ابو بلج" کی وجہ سے حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبد الرحمن بن الحسن (جو مصنف کے شیخ ہیں) - اگرچہ ان میں ضعف ہے - لیکن وہ "متابع" ہیں (یعنی ان کی تائید موجود ہے)۔ یہ روایت نمبر (3) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7500 سے ماخوذ ہے۔