کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تم اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرے گی
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا يحيى بن حَكيم وإسحاق بن إبراهيم الصَّوّاف (1)، قالا: حدثنا سُوَيد أبو حاتم، عن قَتَادةَ، عن أبي رافع، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "عِفُّوا عن نساءِ الناس، تَعِفَّ نساؤكم، وبرُّوا آباءكم تَبَرَّكم أبناؤُكم، ومَن أتاه أخوه متنصِّلًا، فليَقبَلْ ذلك منه، مُحِقًّا كان أو مُبطِلًا، فإن لم يفعل لم يَرِدْ عليَّ الحوضَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7258 - بل سويد ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7258 - بل سويد ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگوں کی عورتوں کے معاملے میں پاک دامن رہو، تمہاری عورتیں بھی پاک دامن رہیں گی، اور اپنے باپوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کرے گی، اور جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کرتا ہوا (اپنے گناہ سے براءت ظاہر کرتا ہوا) آئے، اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے، خواہ وہ سچا ہو یا جھوٹا، پس جس نے ایسا نہ کیا وہ میرے حوض پر نہیں آئے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ الأسَدي الحافظ وعَبْدان بن يزيد الدقّاق الهَمَذانيّان بهَمَذان، قالا: حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا علي بن قُتيبة الرِّفاعي، حدثنا مالك بن أنس، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ: "برُّوا آباءكم تَبَرَّكم أبناؤُكم، وعِفُّوا تَعِفَّ نساؤُكم، ومن تُنُصِّل إليه فلم يَقبَلْ، لم يَرِدْ عليَّ الحوض" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے باپوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کرے گی، اور تم (غیر عورتوں سے) پاک دامنی اختیار کرو، تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی، اور جس سے معذرت کی گئی اور اس نے اسے قبول نہ کیا، وہ میرے حوض پر نہیں آئے گا۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، وأبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد (1)، قالا: حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا عبد الرحمن بن سليمان بن الغَسيل (ح) وأخبرني الحسن بن حَليم (2) المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الرحمن بن سليمان، عن أَسِيد بن علي بن (3) عُبيد الساعدي، عن أبيه، أنه سمع أبا أُسيد مالك بن رَبيعة الساعدي يقول: بينما نحن عندَ رسول الله ﷺ إذ جاءه [رجل] (4) من بني سَلِمة، فقال: يا رسولَ الله، هل بقي من بِرِّ أبويَّ شيءٌ أَبَرُّهما به من بعد موتهما؟ قال: "نعم، الصلاةُ عليهما، والاستغفارُ لهما، وإنفاذُ عُهودِهما، وإكرامُ صديقِهما، وصلةُ الرَّحِم الذي لا رحمَ لك إلَّا من قِبَلِهما" (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7260 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7260 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو اسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک بنو سلمہ کا ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرے والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی کوئی صورت باقی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ان کے لیے دعا کرنا، ان کے لیے استغفار کرنا، ان کے (بعد) عہد و پیمان (وصیت) کو پورا کرنا، ان کے دوست کا اکرام کرنا اور ان رشتوں کو جوڑنا جو صرف انہی کے واسطے سے جڑے ہوئے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن جُنَيد، حدثنا سهل بن عثمان العَسكَري، حدثنا أبو معاوية، حدثنا محمد بن سُوقَة، عن أبي بكر بن حفص، عن ابن عمر قال: أتى النبيَّ ﷺ رجلٌ فقال: يا رسولَ الله، إِنِّي أذنبتُ ذنبًا كثيرًا، فهل لي من توبة؟ قال: "ألكَ والدانِ؟ " قال: لا، قال: "فلك خالةٌ؟ " قال: نعم، فقال رسول الله ﷺ: "فبِرَّها إذًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7261 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7261 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے بہت زیادہ گناہ سرزد ہو گئے ہیں، کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے والدین (میں سے کوئی) زندہ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہاری خالہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔