المستدرك على الصحيحين
كتاب البر والصلة— نیکی اور بھلائی کے کام
لَعَنَ اللَّهُ الْعَاقَّ لِوَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مُنْتَقِصَ مَنَارِ الْأَرْضِ باب: اللہ نے والدین کے نافرمان پر اور زمین کی حدود مٹانے والے پر لعنت فرمائی ہے
حدیث نمبر: 7442
أخبرني أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا شُعبة، عن عطاء عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ يُبايعُه على الهجرة [فقال: إنِّي جئت أبايعُك على الهجرة] (1) وتركتُ أبويَّ يبكيانِ، فقال: "ارجِعْ إليهما، فأضحِكْهما كما أبكيتَهما" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس ہجرت پر بیعت کرنے آیا اور عرض کیا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں اور میں اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس چلے جاؤ، پس انہیں اسی طرح ہنساؤ جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، واستدركناه من الرواية السابقة برقم (7437).
نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان موجود عبارت قلمی نسخوں سے ساقط (غائب) ہو گئی تھی، جسے ہم نے گزشتہ روایت نمبر (7437) سے حاصل کر کے مکمل کیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن الفرج، وقد توبع، وشعبة سماعه من عطاء بن السائب قبل اختلاطه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند محمد بن الفرج کی وجہ سے حسن ہے، اور ان کی متابعت بھی کی گئی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (سند میں موجود) شعبہ کا عطاء بن السائب سے سماع (سننا) ان کے اختلاط (حافظہ بگڑنے) سے پہلے کا ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6909)، وحسين المروزي في "البر والصلة" (73)، والطبراني في "الكبير" (14484)، وأبو الشيخ في "طبقات محدثي أصبهان" 4/ 28 من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (11/ 6909)، حسین المروزی نے "البر والصلۃ" (73)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (14484) اور ابو الشیخ نے "طبقات محدثی اصبہان" (4/ 28) میں مختلف طرق سے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف برقم (7437) من طريق سفيان الثَّوري عن عطاء بن السائب.
حوالہ / مصدر: اور یہ روایت نمبر (7437) کے تحت سفیان ثوری عن عطاء بن السائب کے طریق سے گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان موجود عبارت قلمی نسخوں سے ساقط (غائب) ہو گئی تھی، جسے ہم نے گزشتہ روایت نمبر (7437) سے حاصل کر کے مکمل کیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن الفرج، وقد توبع، وشعبة سماعه من عطاء بن السائب قبل اختلاطه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند محمد بن الفرج کی وجہ سے حسن ہے، اور ان کی متابعت بھی کی گئی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (سند میں موجود) شعبہ کا عطاء بن السائب سے سماع (سننا) ان کے اختلاط (حافظہ بگڑنے) سے پہلے کا ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6909)، وحسين المروزي في "البر والصلة" (73)، والطبراني في "الكبير" (14484)، وأبو الشيخ في "طبقات محدثي أصبهان" 4/ 28 من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (11/ 6909)، حسین المروزی نے "البر والصلۃ" (73)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (14484) اور ابو الشیخ نے "طبقات محدثی اصبہان" (4/ 28) میں مختلف طرق سے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف برقم (7437) من طريق سفيان الثَّوري عن عطاء بن السائب.
حوالہ / مصدر: اور یہ روایت نمبر (7437) کے تحت سفیان ثوری عن عطاء بن السائب کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7442 سے ماخوذ ہے۔