حدیث نمبر: 7315
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا أبو عبد الله محمد التَّيمي، وأبو الربيع سليمان بن داود العَتَكي ونصر بن علي الجَهْضمي، قالوا: حدثنا أبو زُكَير يحيى بن محمد بن قيس، قال: سمعتُ هشام بن عُرْوة يَذكُر عن أبيه، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "كلُوا البلحَ بالتمر، فإنَّ الشيطانَ إذا أكله ابن آدم غضبَ، وقال: بقيَ ابن آدمَ حتى أكلَ الجديدَ بالخَلَقِ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7138 - حديث منكر
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کچی کھجوروں کو پکی (خشک) کھجوروں کے ساتھ ملا کر کھایا کرو، کیونکہ جب ابن آدم اسے کھاتا ہے تو شیطان غصے میں آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابن آدم (اتنی لمبی عمر تک) باقی رہا کہ اب وہ نئے کو پرانے کے ساتھ ملا کر کھانے لگا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7315
درجۂ حدیث محدثین: منكر كما قال النسائي
تخریج حدیث «منكر كما قال النسائي، وقال ابن حبان: لا أصل له من حديث النبي ﷺ، وذكره ابن الجوزي في "الموضوعات"، وآفته أبو زكير يحيى بن محمد بن قيس، فهو ضعيف، وعدُّوا هذا الحديث من منكراته.» [ترقيم الرساله 7315] [ترقيم الشركة 7234] [ترقيم العلميه 7138]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) منكر كما قال النسائي، وقال ابن حبان: لا أصل له من حديث النبي ﷺ، وذكره ابن الجوزي في "الموضوعات"، وآفته أبو زكير يحيى بن محمد بن قيس، فهو ضعيف، وعدُّوا هذا الحديث من منكراته.
درجۂ حدیث: امام نسائی کے نزدیک یہ "منکر" ہے اور ابن حبان کے مطابق اس کی نبی کریم ﷺ کی حدیث کے طور پر کوئی اصل نہیں ہے، جبکہ ابن الجوزی نے اسے "موضوعات" (من گھڑت روایات) میں ذکر کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس حدیث کی بنیادی آفت "ابو زکیر یحییٰ بن محمد بن قیس" ہے جو کہ ضعیف ہے، اور محدثین نے اس حدیث کو اس کی منکرات میں شمار کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3330)، والنسائي (6690)، وأبو يعلى (4399)، والعقيلي في "الضعفاء" (2001)، وابن حبان في "المجروحين" 3/ 120، وابن عدي في "الكامل" 7/ 243، والمصنف في "معرفة علوم الحديث" ص 100، والبيهقي في "الشعب" (5597)، وفي "الآداب" (433)، والخطيب في "تاريخ بغداد" 3/ 320، وابن الجوزي في "الموضوعات" (1393) و (1394) من طرق عن أبي زكير يحيى بن محمد بن قيس، بهذا الإسناد. وقال العقيلي: لا يتابع عليه ولا يعرف إلّا بيحيى هذا، ومثله قال ابن عدي.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ابن ماجہ (3330)، نسائی (6690)، ابویعلیٰ (4399)، عقیلی نے "الضعفاء" (2001)، ابن حبان نے "المجروحین" 3/120، ابن عدی نے "الکامل" 7/243، مصنف (امام حاکم) نے "معرفة علوم الحدیث" صفحہ 100، بیہقی نے "شعب الایمان" (5597) اور "الآداب" (433)، خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" 3/320 اور ابن الجوزی نے "الموضوعات" (1393) و (1394) میں ابوزکیر یحییٰ بن محمد بن قیس کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام عقیلی فرماتے ہیں کہ اس روایت کی متابعت نہیں کی گئی (یعنی یہ اکیلا راوی ہے) اور یہ صرف اسی یحییٰ بن محمد بن قیس سے معروف ہے، اور اسی طرح کی بات امام ابن عدی نے بھی کہی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7315 سے ماخوذ ہے۔