کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ رومال سے نہ پونچھے جب تک انہیں چاٹ نہ لے
أخبرنا محمد بن أحمد بن تَميم القَنطَري، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني أبو الزُّبير، عن جابر بن عبد الله، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول: "لا يَمْسَحْ أحدُكم يدَه بالمِنْديل حتى يَلعَقَ يدَه، فإنَّ الرجلَ لا يدري في أيِّ طعامِه يُبارَكُ له، وإنَّ الشيطان يَرصُدُ النَّاسَ - أو الإنسانَ - على كلِّ شيء حتى عند طعامِه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7126 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو رومال سے نہ پونچھے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے، کیونکہ انسان نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں اس کے لیے برکت رکھی گئی ہے، اور بیشک شیطان انسان کی ہر چیز پر گھات لگا کر بیٹھتا ہے یہاں تک کہ اس کے کھانے کے وقت بھی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7304
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي قلابة، واسمه عبد الملك بن محمد الرَّقاشي،» [ترقيم الرساله 7304] [ترقيم الشركة 7222] [ترقيم العلميه 7126]
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا أبو بكر محمد بن النَّضْر الجارودي (1)، حدثنا أحمد بن مَنِيع، حدثنا يعقوب بن الوليد، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن سعيد بن أبي سعيد المَقُبري، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسولُ الله ﷺ: "إِنَّ الشيطان حسَّاسٌ لحَّاسٌ، فاحذَروه على أنفسِكم، من باتَ وفي يده رِيحٌ فأصابه شيءٌ، فلا يَلُومنَّ إلَّا نفسَه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7127 - بل موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک شیطان بہت حساس اور (ہاتھ) چاٹنے والا ہے، لہٰذا تم اس سے اپنی جانوں کا بچاؤ کرو، جو شخص اس حال میں سویا کہ اس کے ہاتھ میں (کھانے کی) بو باقی تھی اور اسے کوئی تکلیف پہنچی تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7305
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع، كما قال الذهبي في "تلخيصه"، يعقوب بن الوليد» [ترقيم الرساله 7305] [ترقيم الشركة 7223] [ترقيم العلميه 7127]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العدل، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن مسلم الكوفي الأعور المُلَائي، سمع أنس بن مالك يقول: كان النبيُّ ﷺ يُردِفُ خلفَه، ويضعُ طعامَه في الأرض، ويُجيبُ دعوة المملوك، ويركبُ الحِمار (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7128 - مسلم ترك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (سواری پر) اپنے پیچھے کسی کو بٹھا لیتے تھے، اپنا کھانا زمین پر رکھ کر کھاتے تھے، غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے اور گدھے پر سواری کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7306
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم» [ترقيم الرساله 7306] [ترقيم الشركة 7224] [ترقيم العلميه 7128]