المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
لَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ باب: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ رومال سے نہ پونچھے جب تک انہیں چاٹ نہ لے
حدیث نمبر: 7306
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العدل، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن مسلم الكوفي الأعور المُلَائي، سمع أنس بن مالك يقول: كان النبيُّ ﷺ يُردِفُ خلفَه، ويضعُ طعامَه في الأرض، ويُجيبُ دعوة المملوك، ويركبُ الحِمار (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7128 - مسلم تركحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (سواری پر) اپنے پیچھے کسی کو بٹھا لیتے تھے، اپنا کھانا زمین پر رکھ کر کھاتے تھے، غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے اور گدھے پر سواری کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم - وهو ابن كيسان - الكوفي الأعور. سفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر "حسن لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مسلم بن کیسان الکوفی الاعور کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وقد سلف بأطول مما هنا برقم (3776).
حوالہ / مصدر: یہ روایت اس سے زیادہ طویل شکل میں پہلے نمبر (3776) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر "حسن لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مسلم بن کیسان الکوفی الاعور کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وقد سلف بأطول مما هنا برقم (3776).
حوالہ / مصدر: یہ روایت اس سے زیادہ طویل شکل میں پہلے نمبر (3776) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7306 سے ماخوذ ہے۔