حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا أبو أسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن عبد الرحمن، عن ابن كعب بن مالك، عن أبيه: أنه رأى النبيَّ ﷺ إذا أكلَ طعامًا لَعِقَ أصابعَه الثلاثَ التي أكلَ بها (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7120 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7120 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ کھانا کھا لیتے تو اپنی ان تین انگلیوں کو چاٹ لیتے تھے جن سے آپ ﷺ نے کھانا کھایا ہوتا تھا۔
أخبرَناه عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمّاد بن سَلَمة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عبد الله بن كعب بن مالك، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ كانَ إِذا أكلَ لَعِقَ أصابعَه الثلاث (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7121 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7121 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا تناول فرما لیتے تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، حدثنا محمد بن السائب بن بَرَكة المكي، عن أمِّه، عن عائشة قالت: كان رسولُ الله ﷺ إذا أخذَ أهلَه الوَعْكُ، أمر بالحَسَاءِ فصُنِعَ، ثم يأمرُه فيحسُو منه، وكان يقول: "إنَّه لَيَرْتُو عن فؤاد الحَزين (1)، ويَسْرُو عن فؤاد السَّقيم، كما تَسْرُو إحداكُنَّ الوسخَ عن وجهِها بالماء" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7122 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7122 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا یا بخار و نقاہت میں مبتلا ہوتا تو آپ ﷺ ”حساء“ (دلیا یا شوربہ) تیار کرنے کا حکم دیتے، پھر فرماتے کہ مریض اس میں سے گھونٹ بھر کر پیئے، اور آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”بیشک یہ غمزدہ کے دل کو مضبوط کرتا ہے اور بیمار کے دل سے (تکلیف کو) یوں دور کر دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی پانی کے ساتھ اپنے چہرے سے میل کچیل دور کر دیتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الحسين بن علي التميمي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن حفص (3)، حدثني أبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن عبد العزيز بن صُهيب، عن أنس قال: لقد رأيتُ المهاجرين والأنصارَ يَحفِرُون الخندقَ حولَ المدينة، ويَنقُلون الترابَ على ظهورهم يقولون: نحنُ الذين بايَعْنا محمَّدا … على الإسلامِ ما بقِينا أبدا ورسولُ الله ﷺ يُجيبُهم ويقول: "اللهمَّ لا خيرَ إلّا خيرُ الآخرَهْ … فبارِكْ في الأنصارِ والمهاجرَهْ" فيُجاءُ بالصَّحْفة فيها مِلءُ (1) كَفِّي من شعيرٍ مَجشُوشٍ، قد صُنع بإهالَةٍ سَنِخة، فتوضع بين يدي القوم وهم جِياعٌ، ولها بَشَعَةٌ في الحَلْق، ولها رِيح (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7123 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7123 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مہاجرین اور انصار کو مدینہ کے گرد خندق کھودتے ہوئے دیکھا، وہ اپنی پیٹھوں پر مٹی اٹھاتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے: ”ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ سے اسلام پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ رہیں۔“ اور رسول اللہ ﷺ انہیں جواب دیتے ہوئے فرما رہے تھے: ”اے اللہ! اصل خیر تو آخرت ہی کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین میں برکت عطا فرما۔“ پھر ان کے پاس ایک پیالہ لایا جاتا جس میں دو مٹھی بھر کٹا ہوا (موٹا) جو ہوتا جسے پرانے بدبودار چکنائی والے چربی میں تیار کیا گیا ہوتا تھا، وہ ان لوگوں کے سامنے رکھا جاتا جبکہ وہ سخت بھوک کی حالت میں ہوتے، اور وہ کھانا حلق میں چبھنے والا اور بدبودار ہوتا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس اضافے کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس اضافے کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا ابن وهب، أخبرني قُرّة بن عبد الرحمن، عن ابن شِهاب، عن عُروة، عن أسماء بنت أبي بكر: أنها كانت إذا ثَرَدَتْ، غطَّتْه حتى يذهبَ فَوْرُه، تقول: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنه أعظمُ للبَرَكة" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم في الشواهد، ولم يُخرجاه. وله شاهد مفسَّر من حديث محمد بن عُبيد الله العَرزَمي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7124 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم في الشواهد، ولم يُخرجاه. وله شاهد مفسَّر من حديث محمد بن عُبيد الله العَرزَمي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7124 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب وہ ثرید تیار کرتیں تو اسے ڈھانپ دیتیں یہاں تک کہ اس کا جوش (شدید بھاپ) ختم ہو جاتا، وہ کہتیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”یہ برکت کے لیے زیادہ باعثِ عظمت ہے۔“
یہ حدیث شاہد کے طور پر امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک مفصل شاہد روایت درج ذیل ہے:
یہ حدیث شاہد کے طور پر امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک مفصل شاہد روایت درج ذیل ہے: