حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن بُطَّة الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا، حدثنا إسماعيل بن عمرو، حدثنا محمد بن الفضل، عن ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عبّاس قال: قال رسول الله ﷺ: "احفَظُوني في العرب لثلاثِ خِصالٍ: لأنِّي عربيٌّ، والقرآنَ، عربيٌّ، ولسانَ أهل الجنَّة عربيٌّ (1). قال الحاكم رحمه الله تعالى: حديثُ يحيى بن بُرَيد عن ابن جريج حديثٌ صحيح! وإنما ذكرتُ حديث محمد بن الفضل متابعًا له، والمتهاونُ بقول المصطفى ﷺ: "كلام أهل الجنَّة عربيٌّ"، مُتهاوِنٌ بالله ورسوله ﷺ، فإِنَّ شواهده تُنذِرُ بالوعيد منه ﷺ لمن يختارُ الفارسيةَ على العربية نُطقًا وكتابةً، وقد رُوِّينا في ذلك أحاديث: فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7000 - أظن الحديث موضوعا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7000 - أظن الحديث موضوعا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین خصلتوں کی وجہ سے عرب کے بارے میں میرا لحاظ رکھو: کیونکہ میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہے“۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن برید کی ابن جریج سے روایت صحیح ہے، میں نے محمد بن فضل کی روایت اس کی تائید کے لیے ذکر کی ہے، اور جو شخص نبی کریم ﷺ کے اس فرمان ”اہل جنت کی زبان عربی ہے“ کو معمولی سمجھے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کی شان میں کوتاہی کرنے والا ہے، کیونکہ اس کے شواہد ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہیں جو عربی کے مقابلے میں فارسی کو بولنے یا لکھنے میں ترجیح دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں مزید احادیث بھی پہنچی ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن برید کی ابن جریج سے روایت صحیح ہے، میں نے محمد بن فضل کی روایت اس کی تائید کے لیے ذکر کی ہے، اور جو شخص نبی کریم ﷺ کے اس فرمان ”اہل جنت کی زبان عربی ہے“ کو معمولی سمجھے گا وہ اللہ اور اس کے رسول کی شان میں کوتاہی کرنے والا ہے، کیونکہ اس کے شواہد ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہیں جو عربی کے مقابلے میں فارسی کو بولنے یا لکھنے میں ترجیح دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں مزید احادیث بھی پہنچی ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:
ما حدثني أبو عمرو سعيد بن القاسم بن العلاء المُطوِّعي، حدثنا أحمد بن الليث بن الخليل، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَريري ببَلْخ، حدثنا عُمر بن هارون، حدثنا أسامة بن زيد اللَّيثي، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن أحسنَ منكم أن يتكلَّمَ بالعربية، فلا يتكلمَنَّ بالفارسيَّة، فإنه يُورِثُ النِّفاقَ" (1). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7001 - عمرو بن هارون كذبه ابن معين وتركه الجماعة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7001 - عمرو بن هارون كذبه ابن معين وتركه الجماعة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو عربی بولنے پر قدرت رکھتا ہو وہ ہرگز فارسی میں کلام نہ کرے، کیونکہ یہ نفاق پیدا کرتی ہے“۔
ما حدثنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله البَيرُوتي، حدثنا أبو فَرْوة، حدثني أبي، حدثني طلحة بن زيد، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن تكلَّمَ بالفارسيّةِ زادَتْ في خِبِّه (1) ونَقَصَت من مُرُوءَتِه" (2). [كتاب الأحكام]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7002 - ليس بصحيح وإسناده واه بمرة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7002 - ليس بصحيح وإسناده واه بمرة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے فارسی میں کلام کیا اس کی مکاری میں اضافہ ہو گیا اور اس کی مروءت (جوانمردی) میں کمی آگئی“۔