حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: أُميمة بنت رُقَيقةَ ورُقَيقةُ أمُّها، وأبوها عبدُ الله بن بِجاد بن عُمير بن الحارث بن حارثة بن سعد بن تَيْم بن مُرَّة، وأمُّها رُقَيقةُ بنتُ خُوَيلد بن أسد بن عبد العُزَّى أختُ خديجةَ بنت خُوَيلد بن أسد بن عبد العزَّى زوج النبيِّ ﷺ، واغتَرَبتْ (1) أُمَيمةُ فتزوَّجها حبيبُ بن كُعَيب بن عُتير الثَّقفي، فولدت له، وعاشت أُميمةُ بنت رُقيقةً بعدَ رسولِ الله ﷺ، وروَتْ عنه.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ میں رقیقہ ان کی والدہ کا نام ہے، ان کے والد عبداللہ بن بجاد تھے اور ان کی والدہ رقیقہ بنت خویلد ام المومنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں، سیدہ امیمہ نے پردیس میں رہائش اختیار کی اور ان کا نکاح حبیب بن کعیب ثقفی سے ہوا جن سے ان کی اولاد ہوئی، وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد حیات رہیں اور آپ ﷺ سے روایات نقل کیں۔
فحدَّثنا بصحَّة ما ذكره أبو عبد الله الواقدي، أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن عيسى بن عبد الله التميمي، عن محمد بن المنكدِر، عن أُميمة خالةِ فاطمةَ بنتِ رسول الله ﷺ قال: سمعتُها تقول: بايَعْنا رسولَ الله ﷺ، فأخذَ علينا أن لا نُشرِكَ بالله شيئًا. قال: ثم ذكر نحوَ حديثِ ابن إسحاق عن ابن المنكدر (2). ذكرُ بَرِيرةَ مولاةِ عائشةَ ﵂ قد اتَّفق الشيخانِ ﵄ على حديث يزيد بن رُومان عن عُرْوة عن بَرِيرةَ ﵂ أنها قالت: فيَّ ثلاثٌ من السُّنة: تُصُدِّقَ عليَّ بلحم، فأهديتُ إلى عائشة … الحديث، وكان عليَّ تسعُ أواقٍ، فقالت عائشةُ: إن شاء مواليكِ عَدَدتُها إليهم، في ذِكرِ الوَلاء بطوله (3). [وليلي مولاة عائشة ﵂]
حافظ طلحہ بابر
سیدنا محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خالہ سیدہ امیمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تو آپ ﷺ نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، اس کے بعد راوی نے ابن اسحاق کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی۔
سیدہ عائشہ کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ؛ شیخین کا یزید بن رومان کی عروہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق ہے کہ بریرہ نے کہا: میرے بارے میں سنت کے تین احکام جاری ہوئے؛ مجھے گوشت صدقہ دیا گیا تو میں نے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کر دیا... (یہ طویل حدیث ہے) جس میں ولاء اور مکاتبت کی نو اوقیہ رقم کا ذکر ہے۔
سیدہ عائشہ کی لونڈی لیلیٰ کا تذکرہ۔
سیدہ عائشہ کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ؛ شیخین کا یزید بن رومان کی عروہ سے مروی اس حدیث پر اتفاق ہے کہ بریرہ نے کہا: میرے بارے میں سنت کے تین احکام جاری ہوئے؛ مجھے گوشت صدقہ دیا گیا تو میں نے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کر دیا... (یہ طویل حدیث ہے) جس میں ولاء اور مکاتبت کی نو اوقیہ رقم کا ذکر ہے۔
سیدہ عائشہ کی لونڈی لیلیٰ کا تذکرہ۔