المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - باب: سیدہ اُمیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان
حدَّثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، حدثني محمد بن المُنكدر، عن أُميمة بنت رُقَيقة التميمية قالت: بايعتُ رسولَ الله ﷺ في النِّسوة من المسلمين، فقلنا له: جئناك يا رسولَ الله نبايعُك على أن لا نُشرِكَ بالله شيئًا، ولا نَسرِقَ، ولا نزنيَ، ولا نقتُلَ أولادَنا، ولا نأتيَ ببُهتانٍ نفتريه بين أيدينا وأرجلِنا، ولا نَعصيَك في معروفٍ، فقال رسولُ الله ﷺ: "فيما استطعتُنَّ وأطقتُنَّ" فقلنا: الله ورسولُه أرحمُ بنا من أنفسِنا، فقلنا: بايِعْنا يا رسولَ الله، قال: "اذهبْنَ، قد بايعتُكنَّ، إنما قولي لامرأةٍ واحدةٍ كقَولي لمئةِ امرأةٍ"، وما صافحَ رسولُ الله ﷺ منَّا أحدًا (4).
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ تمیمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے مسلمان خواتین کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ ﷺ کے پاس اس بات پر بیعت کرنے آئی ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، بدکاری نہیں کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہیں لائیں گی اور کسی نیک کام میں آپ ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان کاموں میں جن کی تم میں طاقت اور استطاعت ہو“، ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہم پر ہماری اپنی جانوں سے بھی زیادہ مہربان ہیں، پھر ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم سے بیعت لیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تم سے بیعت لے لی ہے، میرا ایک عورت سے کلام کرنا ویسا ہی ہے جیسا سو عورتوں سے کلام کرنا“، اور رسول اللہ ﷺ نے ہم میں سے کسی خاتون سے مصافحہ نہیں فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار) نے یہاں سماع کی تصریح (تحدیث) کر دی ہے، لہذا ان کے تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (27007) من طريق إبراهيم بن سعد، عن ابن إسحاق، بهذا الإسناد. وأخرجه تامًّا ومختصرًا أحمد (27006) و (27008) و (27009) و (27010)، وابن ماجه (2874)، والترمذي (1597)، والنسائي (7756) و (7765) و (8660) و (8672) و (9196) و (11525)، وابن حبان (4553) من طرق عن محمد بن المنكدر، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 44/ (27007) میں ابراہیم بن سعد از محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے مکمل اور مختصراً امام احمد (27006، 27008، 27009، 27010)، ابن ماجہ (2874)، ترمذی (1597)، نسائی (7756، 7765، 8660، 8672، 9196، 11525) اور ابن حبان (4553) نے محمد بن المنکدر کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔