حدیث نمبر: 7124
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: أُميمة بنت رُقَيقةَ ورُقَيقةُ أمُّها، وأبوها عبدُ الله بن بِجاد بن عُمير بن الحارث بن حارثة بن سعد بن تَيْم بن مُرَّة، وأمُّها رُقَيقةُ بنتُ خُوَيلد بن أسد بن عبد العُزَّى أختُ خديجةَ بنت خُوَيلد بن أسد بن عبد العزَّى زوج النبيِّ ﷺ، واغتَرَبتْ (1) أُمَيمةُ فتزوَّجها حبيبُ بن كُعَيب بن عُتير الثَّقفي، فولدت له، وعاشت أُميمةُ بنت رُقيقةً بعدَ رسولِ الله ﷺ، وروَتْ عنه.
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ میں رقیقہ ان کی والدہ کا نام ہے، ان کے والد عبداللہ بن بجاد تھے اور ان کی والدہ رقیقہ بنت خویلد ام المومنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں، سیدہ امیمہ نے پردیس میں رہائش اختیار کی اور ان کا نکاح حبیب بن کعیب ثقفی سے ہوا جن سے ان کی اولاد ہوئی، وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد حیات رہیں اور آپ ﷺ سے روایات نقل کیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7124
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7124] [ترقيم الشركة 7042]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) قال الجوهري في "الصحاح" 1/ 191: اغترب فلانٌ: إذا تزوَّج إلى غير أقاربه.
نوٹ / توضیح: جوہری نے "الصحاح" 1/ 191 میں کہا ہے: "اغترب فلان" کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے قریبی رشتہ داروں سے باہر (اجنبیوں میں) شادی کرے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7124 سے ماخوذ ہے۔