حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدَّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: وأمُّ خالد اسمُها أَمَةُ بنت خالد بن سعيد بن العاص بن أُمية، وكان خالدُ بن سعيد قد هاجرَ إلى أرض الحبشة ومعه امرأتُه هُمَينةُ بنتُ خلف، فولدت له هناك أَمةَ بنتَ خالد فلم تَزَلْ بأرضِ الحبشة حتى قَدِمُوا [في] (1) السَّفينتين، وقد بلغت أمَةُ وعَقَلَتْ، وتزوَّجها الزُّبير بن العوام، فولدت له عمر وخالدًا ابني الزبير، وعاشت وعُمِّرت، وروت عن النبيِّ ﷺ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام خالد رضی اللہ عنہا کا نام امہ بنت خالد بن سعید بن عاص بن امیہ ہے، سیدنا خالد بن سعید اپنی اہلیہ ہمینہ بنت خلف کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے، وہیں ان کے ہاں امہ بنت خالد پیدا ہوئیں اور وہ حبشہ میں ہی رہیں یہاں تک کہ وہ دو کشتیوں کے ذریعے (مدینہ) پہنچے، اس وقت امہ جوان اور سمجھدار ہو چکی تھیں، ان کا نکاح سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ہوا جن سے ان کے بیٹے عمر اور خالد پیدا ہوئے، انہوں نے طویل عمر پائی اور نبی کریم ﷺ سے روایات نقل کیں۔
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدَّثنا أحمد بن مهدي، حدَّثنا أبو بدر شُجاع بن الوليد، حدَّثنا موسى بن عُقبة، قال: سمعتُ أمَّ خالدٍ بنتَ خالد بن سعيد بن العاص تقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يستعيذُ من عذاب القبر (2). ذكرُ فاطمةَ بنتِ عُتبة بن ربيعة
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔