المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ أُمِّ كُلْثُومٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - باب: سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا بیان
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: لا يُعلَمُ قرشيةٌ خرجت من بين أبوَيها مُسلمةً مهاجرةً إلى الله ورسولِه إلَّا أُمَّ كُلثوم بنت عقبة، فإنها خرجت من مكة وحدها، وصاحبت رجلًا من خُزاعة حتى قَدِمَت المدينة في هُدْنة الحُديبيَةِ، فخرج في أثرِها أخواها الوليدُ وعُمارةُ ابنا عقبة، فقَدِما المدينةَ يومَ قَدِمَتْ، فقالا: يا محمدُ، فِ لنا بشَرطِنا وما عاهدتَنا عليه، وفيها نزلت: ﴿إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ﴾ الآيةَ [الممتحنة: 10]، ولم يكُنْ لها بمكةَ زوجٌ، فلما قَدِمَت المدينةَ تزوَّجها زيدُ بن حارثة، فقُتِلَ عنها، فتزوَّجها الزُّبيرُ بن العوَّام فوَلَدت له زينب، فطلَّقها، ثم تزوَّجها عبدُ الرحمن بن عوف، فولدَت له إبراهيم وحُميدًا، ومات عنها، فتزوَّجها عمرُو بن العاص فماتت عنه. ذكرُ أمِّ خالدٍ بنتِ خالد ﵄
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ ایسی کسی قریشی خاتون کا علم نہیں جو اپنے والدین کے گھر سے مسلمان ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے والی ہو سوائے ام کلثوم بنت عقبہ کے، کیونکہ وہ اکیلی مکہ سے نکلیں اور قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص کی رفاقت میں صلح حدیبیہ کے زمانے میں مدینہ پہنچیں، ان کے پیچھے ان کے دو بھائی ولید اور عمارہ (عقبہ کے بیٹے) بھی نکلے اور جس دن وہ مدینہ پہنچیں وہ بھی وہاں پہنچ گئے، ان دونوں نے کہا: اے محمد (ﷺ)! ہماری شرط اور وہ وعدہ پورا کیجیے جو آپ نے ہم سے کیا تھا، تب ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ﴾ ”اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں۔“ [سورة الممتحنة: 10]، مکہ میں ان کا کوئی شوہر نہیں تھا، جب وہ مدینہ آئیں تو سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے، پھر ان سے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا جن سے ان کی بیٹی زینب پیدا ہوئیں، پھر انہوں نے طلاق دے دی، پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا جن سے ان کے بیٹے ابراہیم اور حمید پیدا ہوئے اور ان کی وفات تک وہ ان کے نکاح میں رہیں، پھر ان سے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور ان کی وفات عمرو بن عاص کے نکاح میں ہی ہوئی۔