حدیث نمبر: 7105
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدَّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: وأمُّ خالد اسمُها أَمَةُ بنت خالد بن سعيد بن العاص بن أُمية، وكان خالدُ بن سعيد قد هاجرَ إلى أرض الحبشة ومعه امرأتُه هُمَينةُ بنتُ خلف، فولدت له هناك أَمةَ بنتَ خالد فلم تَزَلْ بأرضِ الحبشة حتى قَدِمُوا [في] (1) السَّفينتين، وقد بلغت أمَةُ وعَقَلَتْ، وتزوَّجها الزُّبير بن العوام، فولدت له عمر وخالدًا ابني الزبير، وعاشت وعُمِّرت، وروت عن النبيِّ ﷺ.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام خالد رضی اللہ عنہا کا نام امہ بنت خالد بن سعید بن عاص بن امیہ ہے، سیدنا خالد بن سعید اپنی اہلیہ ہمینہ بنت خلف کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے، وہیں ان کے ہاں امہ بنت خالد پیدا ہوئیں اور وہ حبشہ میں ہی رہیں یہاں تک کہ وہ دو کشتیوں کے ذریعے (مدینہ) پہنچے، اس وقت امہ جوان اور سمجھدار ہو چکی تھیں، ان کا نکاح سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ہوا جن سے ان کے بیٹے عمر اور خالد پیدا ہوئے، انہوں نے طویل عمر پائی اور نبی کریم ﷺ سے روایات نقل کیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7105
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7105]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ، واستدرك من "طبقات ابن سعد" 10/ 222.
نوٹ / توضیح: بریکٹ (المعقوفین) کے درمیان والا حصہ نسخوں سے غائب تھا، جسے "طبقات ابن سعد" 10/ 222 کی مدد سے مکمل کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7105 سے ماخوذ ہے۔