کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدہ اُمامہ بنت سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کا بیان
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: وأُمامةُ بنت حمزةَ بن عبد المطلب بن هاشم، وأمها سلمى بنت عُميس بن مَعْد بن تَيْم أختُ أسماءَ بنت عُميس، عاشت بعدَ النبي ﷺ، وقد روت عنه.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدہ امامہ بنت حمزہ بن عبدالمطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہا کی والدہ سلمیٰ بنت عمیس بن معد بن تیم ہیں جو سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں، وہ نبی کریم ﷺ کے بعد حیات رہیں اور آپ ﷺ سے روایات نقل کی ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7099
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7099] [ترقيم الشركة 7019]
حدَّثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا أبو كُريب، حدَّثنا بكر بن عبد الرحمن، حدَّثنا عيسى بن المختار، عن ابن أبي ليلى، عن الحَكَم، عن عبد الله بن شدَّاد - وهو أخو أمامة بنت حمزة لأمِّها - عن أخته أُمامةَ بنت حمزة: أنَّ مولًى لها تُوفِّي ولم يترُكْ إِلَّا ابنةً واحدة، فقضَى رسولُ الله ﷺ أن لابنته النِّصفَ، ولابنة حمزةَ النِّصفَ (1). ذكرُ [أمِّ] رِمْثَةَ، وقيل: رُمَيْثةُ، ﵂
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن شداد اپنی بہن سیدہ امامہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے ایک آزاد کردہ غلام کا انتقال ہو گیا اور اس نے سوائے ایک بیٹی کے کوئی وارث نہیں چھوڑا، تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ نصف ترکہ اس کی بیٹی کا ہے اور بقیہ نصف (ولاء کی بنیاد پر) سیدہ امامہ بنت حمزہ کا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7100
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابنُ أبي ليلى - وهو محمد بن عبد الرحمن - سيئ الحفظ، وقد أسند الخبر، وخالفه غيرُ واحد من الثقات، فرووه عن عبد الله بن شداد مرسلًا كما بيَّناه في تعليقنا على "سنن ابن ماجه"، وصحَّح إرسالَه النسائيُّ بإثر الحديث (6366)، والدارقطنيُّ في "العلل" (4099)، ...» [ترقيم الرساله 7100] [ترقيم الشركة 7020]