حدیث نمبر: 7101
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدَّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: وأمُّ رِمْثةَ، ويقال: رُمَيثة بنت عمرو بن هاشم بن عبد المطلب بن عبد مَناف، وهي أمُّ حَكيم أبي القعقاع بن حكيم، وهو من الأزد، حليفٌ لبني عبد المطلب بن عبد مَناف (1)، أسلَمَت وبايَعَت رسولَ الله ﷺ. وعاشت بعده ورَوَت عنه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان خواتین میں سیدہ ام رمثہ (یا رمیثہ) بنت عمرو بن ہاشم بن عبدالمطلب بھی شامل ہیں، وہ ابوالقعقاع بن حکیم کی والدہ ہیں جن کا تعلق قبیلہ ازد سے ہے اور وہ بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے، انہوں نے اسلام قبول کیا، رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی، آپ ﷺ کے بعد حیات رہیں اور روایات بیان کیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7101
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7101] [ترقيم الشركة 7023]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) من قوله: "وهي أم حكيم" إلى هنا سقط من (ز). وانظر "طبقات ابن سعد" 10/ 216.
نوٹ / توضیح: ان الفاظ سے لے کر کہ "وہ ام حکیم ہیں" تک کا حصہ نسخہ (ز) میں موجود نہیں (ساقط) ہے۔ مزید تفصیل کے لیے "طبقات ابن سعد" 10/ 216 ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7101 سے ماخوذ ہے۔