کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدہ اُمِّ ایمن رضی اللہ عنہا کا بیان، جو رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ باندی اور آپ کی پرورش کرنے والی تھیں
حدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: ومِنهنَّ أُمُّ أيمَنَ مولاةُ رسولِ الله ﷺ وحاضنتُه، واسمُها بَرَكةُ، كان رسولُ الله ﷺ وَرِثَها وخمسةَ أجمال وقطعةَ غَنَم مما ذُكِرَ، فأعتقَ رسولُ الله ﷺ أمَّ أيمن حين تزوَّجَ خديجة، فتزوَّجها عبيدُ بن يزيد (1) من بني الحارث بن الخَزرج، فولدت له أيمن (2)، فقُتل يومَ حُنَين (3) شهيدًا. وكان زيدُ بن حارثة لخديجةَ، فوهبته لرسولِ الله ﷺ، فأعتَقه رسولُ الله ﷺ وزوَّجه أمَّ أيمنَ بعدَ النُّبوة، فولدت له أسامةَ بن زيد.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ ان خواتین میں ام ایمن بھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی اور آیا تھیں، ان کا نام برکہ ہے، رسول اللہ ﷺ کو وہ (اپنے والد کے ترکے سے) پانچ اونٹوں اور بکریوں کے ایک ریوڑ کے ساتھ وراثت میں ملی تھیں، جب آپ ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ام ایمن کو آزاد کر دیا، ان کا نکاح بنو حارث بن خزرج کے عبید بن یزید سے ہوا جن سے ان کا بیٹا ایمن پیدا ہوا جو جنگِ حنین میں شہید ہوئے، اور زید بن حارثہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کر دیے تھے، آپ ﷺ نے انہیں آزاد کر کے نبوت کے بعد ان کا نکاح ام ایمن سے کر دیا، جن سے اسامہ بن زید پیدا ہوئے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7085
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7085] [ترقيم الشركة 7005]
فحدثني يحيى بن سعيد بن دينار، عن شيخ من بني سعد بن بكر قال: كان رسولُ الله ﷺ يقول لأمِّ أيمنَ: "يا أمَّهْ"، وكان إذا نظَرَ إليها قال: "هذه بقيَّةُ أهلِ بيتي" (4).
حافظ طلحہ بابر
بنو سعد بن بکر کے ایک بزرگ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو ”اے میری ماں!“ کہہ کر پکارتے تھے، اور جب بھی ان کی طرف دیکھتے تو فرماتے: ”یہ میرے گھر والوں کی یادگار (بقیہ) ہیں۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7086
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، مسلسل بالضعفاء والمجاهيل والمبهمين.» [ترقيم الرساله 7086] [ترقيم الشركة 7006]