کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ اُمِّ ایمن رضی اللہ عنہا کا نبی کریم ﷺ کا پیشاب پینا اور اس کے اثرات کا بیان
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدَّثنا شَبَابة، حدَّثنا أبو مالك النَّخَعي، عن الأسود بن قيس، عن نُبيحٍ العَنَزي، عن أمِّ أيمنَ قالت: قامَ النبيُّ ﷺ من الليل إلى فَخَّارٍ من جانب البيت (5) فبالَ فيها، فقمتُ من الليل وأنا عطشَى، فشربتُ ما في الفخَّارة وأنا لا أشعُرُ، فلما أصبحَ النبيُّ ﷺ قال: "يا أُمَّ أيمنَ، قُومي إلى تلك الفَخَّارةِ فأَهرِقي ما فيها"، قلت: قد والله شربتُ ما فيها، قالت: فضَحِكَ رسولُ الله ﷺ حتى بَدَتْ نواجِذُه، ثم قال: "أَمَا إِنَّكِ لَا تَيْجَعُ (1) بَطنُكِ بعدَه أبدًا" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6912 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6912 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ رات کو اٹھے اور گھر کے ایک کونے میں رکھے مٹی کے ایک برتن (فخار) میں پیشاب کیا، پھر میں رات کے وقت اٹھی اور مجھے سخت پیاس لگی ہوئی تھی، چنانچہ میں نے نادانستگی میں اس برتن میں موجود چیز پی لی، جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے ام ایمن! اٹھو اور اس مٹی کے برتن میں جو کچھ ہے اسے بہا دو“، میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں نے تو وہ پی لیا ہے، راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک نظر آنے لگیں، پھر فرمایا: ”آگاہ رہو! اس کے بعد تمہارے پیٹ میں کبھی کوئی تکلیف (درد یا بیماری) نہیں ہوگی۔“
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدَّثنا مصعب بن عبد الله قال: تُوفِّيَت أمُّ أيمن مولاةُ رسولِ الله ﷺ وحاضنتُه في أولِ خلافةِ عثمانَ بن عفان ﵁.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مصعب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی اور پرورش کرنے والی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی وفات سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے ابتدائی ایام میں ہوئی۔