حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا الحسن بن بشر الهَمْداني، حدثنا سَعْدان بن الوليد بيَّاع السَّابِري، عن عطاء، عن ابن عباس، عن أم هانئ بنت أبي طالب قالت: قال لي رسول الله ﷺ: "هل عندكِ طعامٌ آكلُه؟ " وكان جائعًا، فقلتُ: إنَّ عندي لكسرًا يابسةً، وإِنِّي لأستحيي أن أُقرِّبَها إليك، فقال: "هلُمِّيها"، فكسرتها ونشرت عليها الملح، فقال: "هل من إدام؟ " فقلتُ: يا رسول الله، ما عندي إلا شيءٌ من خَلٍّ، قال: "هلُمِّيه"، فلما جئته به صبه على طعامه فأكل منه، ثم حَمِدَ الله تعالى، ثم قال: "نِعمَ الإدام الخلُّ يا أم هانئ، لا يُقفِرُ بيتٌ فيه خل" (1). وقد روى عبد الله بن عمر بن الخطاب عن أمِّ هانئ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ اور آپ ﷺ بھوکے تھے، میں نے عرض کیا: میرے پاس روٹی کے چند خشک ٹکڑے ہیں اور مجھے آپ ﷺ کے سامنے وہ پیش کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں لے آؤ“، تو میں نے وہ ٹکڑے توڑے اور ان پر نمک چھڑک دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا کوئی سالن ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس سرکے کے سوا کچھ نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہی لے آؤ“، جب میں وہ لے آئی تو آپ ﷺ نے اسے کھانے پر ڈالا اور اسے تناول فرمایا، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور فرمایا: ”اے ام ہانی! سرکہ کتنا ہی بہترین سالن ہے، وہ گھر کبھی محتاج نہ ہوگا جس میں سرکہ موجود ہو۔“
عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے بھی ام ہانی سے روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے بھی ام ہانی سے روایت کی ہے۔
أخبرني محمد بن عيسى الرازي التاجر ببغداد، حدثنا علي بن الحسين بن الجنيد، حدثنا المُعافى بن سليمان، حدثنا حكيم بن نافع، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر قال: دخل رسول الله ﷺ على أم هانئ وقِرْبةٌ معلَّقةٌ، فَشَرِبَ قائمًا (1). وقد رُوي حديث لولد أم هانئ عن آبائهم عنها:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور وہاں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر (اس سے) پانی نوش فرمایا۔
ام ہانی رضی اللہ عنہا کی اولاد نے بھی اپنے آباء کے واسطے سے ان کی احادیث روایت کی ہیں۔
ام ہانی رضی اللہ عنہا کی اولاد نے بھی اپنے آباء کے واسطے سے ان کی احادیث روایت کی ہیں۔