کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کی طرف سے سیدہ اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام اور ان کا جواب
أخبرنا عَبْدانُ بن يزيد الدقاق بهَمَذَان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا محمد بن إسماعيل الجعفري، حدثنا عبد الله بن سلمة بن أسلم، عن أبيه، عن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب قال: سمعتُ أم هانئ فاختة بنت أبي طالب تقول: رأيتُ رسول الله ﷺ صلى عام الفتح ملتحفًا في ثوبٍ واحدٍ ثمان ركعات (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ والے سال ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعات نماز پڑھتے دیکھا۔“
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: وفيما ذُكر: أنَّ رسول الله ﷺ خَطَب إلى عمه أبي طالب أم هانئ قبل أن يُوحَى إليه، وخطبها معه هبيرة بن أبي وهب، فزوجها هبيرة، فقال له النَّبيُّ ﷺ: "يا عمِّ، زوجت هبيرة وتركتني؟! " فقال: يا ابن أخي، أنا صاهرت إليهم، والكريمُ يُكافئ الكريم، ثم أسلمَتْ ففَرَّق الإسلام بينها وبين هبيرة، فخطبها رسول الله ﷺ إلى نفسها، فقالت: والله إن كنتُ لأحبك في الجاهلية، فكيف في الإسلام؟! (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6871 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6871 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وحی کے آغاز سے پہلے اپنے چچا ابوطالب سے ام ہانی کے نکاح کا پیغام دیا تھا، ان کے ساتھ ہی ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی پیغام نکاح دیا، تو ابوطالب نے ان کا نکاح ہبیرہ سے کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے چچا! آپ نے ہبیرہ سے نکاح کر دیا اور مجھے چھوڑ دیا؟“ انہوں نے جواب دیا: اے بھتیجے! میں نے ان کے ہاں سسرالی رشتہ کیا ہے اور شریف انسان شریف کا ہی بدلہ (لحاظ) کرتا ہے۔ پھر وہ (ام ہانی) اسلام لے آئیں تو اسلام نے ان کے اور ہبیرہ کے درمیان جدائی کر دی، پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں خود نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں جاہلیت کے دور میں بھی آپ سے محبت (و عقیدت) رکھتی تھی، تو اب اسلام کے دور میں میرا کیا حال ہوگا! (یعنی اب تو محبت بدرجہ اولیٰ زیادہ ہے)۔
أخبرنا أبو العباس المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن إسرائيل، عن السُّدِّي (3)، عن أبي صالح، عن أم هانئ قالت: خطبني رسول الله ﷺ فاعتذرتُ إليه فَعَذَرَني، ثم أنزل الله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ﴾ إلى قوله: ﴿اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ﴾ [الأحزاب: 50]، قالت: فلم أَحِلَّ له؛ لم أهاجر معه، كنتُ من الطلقاء (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6872 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6872 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے معذرت کر لی اور آپ ﷺ نے میری معذرت قبول فرما لی، پھر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ﴾ سے لے کر ﴿اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ﴾ ”اے نبی! ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر آپ نے ادا کر دیے ہیں... اور وہ عورتیں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی۔“ [سورة الأحزاب: 50] تک۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ میں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت نہیں کی تھی بلکہ میں ”طلقاء“ (فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردہ لوگوں) میں سے تھی۔