المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
خُطْبَةُ النَّبِيِّ إِلَى أُمِّ هَانِئٍ وَجَوَابُهَا باب: نبی کریم ﷺ کی طرف سے سیدہ اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام اور ان کا جواب
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: وفيما ذُكر: أنَّ رسول الله ﷺ خَطَب إلى عمه أبي طالب أم هانئ قبل أن يُوحَى إليه، وخطبها معه هبيرة بن أبي وهب، فزوجها هبيرة، فقال له النَّبيُّ ﷺ: "يا عمِّ، زوجت هبيرة وتركتني؟! " فقال: يا ابن أخي، أنا صاهرت إليهم، والكريمُ يُكافئ الكريم، ثم أسلمَتْ ففَرَّق الإسلام بينها وبين هبيرة، فخطبها رسول الله ﷺ إلى نفسها، فقالت: والله إن كنتُ لأحبك في الجاهلية، فكيف في الإسلام؟! (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6871 - حذفه الذهبي من التلخيصمحمد بن عمر سے مروی ہے کہ اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وحی کے آغاز سے پہلے اپنے چچا ابوطالب سے ام ہانی کے نکاح کا پیغام دیا تھا، ان کے ساتھ ہی ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی پیغام نکاح دیا، تو ابوطالب نے ان کا نکاح ہبیرہ سے کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے چچا! آپ نے ہبیرہ سے نکاح کر دیا اور مجھے چھوڑ دیا؟“ انہوں نے جواب دیا: اے بھتیجے! میں نے ان کے ہاں سسرالی رشتہ کیا ہے اور شریف انسان شریف کا ہی بدلہ (لحاظ) کرتا ہے۔ پھر وہ (ام ہانی) اسلام لے آئیں تو اسلام نے ان کے اور ہبیرہ کے درمیان جدائی کر دی، پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں خود نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں جاہلیت کے دور میں بھی آپ سے محبت (و عقیدت) رکھتی تھی، تو اب اسلام کے دور میں میرا کیا حال ہوگا! (یعنی اب تو محبت بدرجہ اولیٰ زیادہ ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
تفصیلِ روایت: ہشام بن محمد بن سائب کلبی نے اس خبر کو اپنے والد سے، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے (جیسا کہ طبقات ابن سعد 10/ 146 میں ہے)۔ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ ام ہانیؓ نے کہا: "لیکن میں صاحبِ اولاد عورت ہوں اور ناپسند کرتی ہوں کہ وہ آپ کو اذیت دیں"۔
اہم نکتہ: اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "اونٹوں پر سواری کرنے والی عورتوں میں قریش کی عورتیں بہترین ہیں، جو بچپن میں اپنی اولاد پر بہت مہربان اور اپنے شوہر کے مال و متاع کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں"۔
درجۂ حدیث: ہشام کلبی اور اس کا باپ دونوں "متہم" ہیں، لہٰذا ان کی روایت سے خوش نہیں ہوا جا سکتا (ناقابلِ اعتبار ہے)۔
وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اس کے بعد والا حصہ ملاحظہ کریں۔