کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیا اور آخرت میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ ہیں
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهدي، حَدَّثَنَا أبو بكر بن عيّاش، عن أبي حَصين، عن عبد الله بن زياد الأسَدي (2)، قال: سمعتُ عمار بن ياسر يَحلِفُ بالله إنها زوجتُه ﷺ في الدنيا والآخرة (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6718 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6718 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن زیاد اسدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا کہ بے شک وہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) دنیا اور آخرت میں آپ ﷺ کی زوجہ ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حَدَّثَنَا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حَدَّثَنَا عُبيد الله (1) بن عمر القوَاريري، حَدَّثَنَا حَرَمي بن عُمارة، حدثني الحَرِيشُ بن الخِرِّيت (2)، حَدَّثَنَا ابن أبي مُليكة، عن عائشة أنها قالت: تُوفِّي رسولُ الله ﷺ في بيتي، وفي يومي وليلتي، وبين سَحْري ونَحْري، ودخل عبدُ الرحمن بن أبي بكر ومعه سِواكٌ من أَراكٍ رَطْبٌ، فنظر إليه رسولُ الله ﷺ فقلتُ: يا عبد الرحمن، اقضَمُه من ذلك المكان، فدفعه إلي فناولتُه إياه، فردّه إليَّ، فَقَضِمتُه وسوَّيْتُه، فدفعتُه إلى النَّبِيِّ ﷺ فتسوَّك به (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6719 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6719 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی وفات میرے گھر میں، میری باری کے دن اور رات میں، میرے سینے اور گلے کے درمیان ہوئی، (وفات کے وقت) عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان کے پاس پیلو کی ایک تازہ مسواک تھی، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: اے عبد الرحمن! اسے (نرم کرنے کے لیے) اس جگہ سے کاٹ دو، انہوں نے وہ مجھے دے دی تو میں نے اسے (چبا کر) برابر کیا اور پھر نبی کریم ﷺ کو دے دی، چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے مسواک فرمائی۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حَدَّثَنَا إسماعيل ابن عُليَّة، عن أيوب، عن ابن أبي مُليكة قال: قالت عائشةُ: مات رسولُ الله ﷺ في بيتي ويومي، وبين سحْري ونَحْري، ودخل عليه عبدُ الرحمن بن أبي بكر ومعه سِواكٌ رَطْبٌ، فنظر إليه حتَّى ظننتُ أنَّ له فيه حاجةً، فأخذتُه فمضغتُه ونَفَضْتُه وطيَّبتُه ثم دفعتُه إليه، فاستنَّ كأحسنِ ما رأيتُه مستنًّا قَطُّ، ثم ذهب يرفعُه إليَّ فسقطَتْ يدُه، فأخذتُ أدعو له بدعاءٍ كان يدعو له به جبريلُ، وكان هو يدعو به إذا مَرِضَ، فلم يَدْعُ به في مرضه ذاك، فرفع بصرَه إلى السماء وقال: "الرَّفيقَ الأعلى" وفاضَتْ نفسُه ﷺ، فالحمدُ لله الذي جمع بين رِيقي وريقِه في آخرِ يومٍ من الدنيا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6720 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6720 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی وفات میرے گھر میں، میری باری کے دن، میرے سینے اور گلے کے درمیان ہوئی، عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، آپ ﷺ نے اسے (رغبت سے) دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ ﷺ کو اس کی حاجت ہے، میں نے وہ مسواک لی، اسے چبا کر نرم کیا، صاف کیا اور عمدہ بنا کر آپ ﷺ کو دے دی، چنانچہ آپ ﷺ نے نہایت خوبصورتی سے مسواک فرمائی، پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھانا چاہا مگر وہ گر گیا، میں آپ ﷺ کے لیے وہ دعا کرنے لگی جو جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے لیے کیا کرتے تھے اور آپ ﷺ بھی بیماری کی حالت میں وہ دعا پڑھا کرتے تھے، مگر اس بیماری میں آپ ﷺ نے وہ دعا نہ پڑھی، پھر آپ ﷺ نے اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں اور فرمایا: «الرَّفِيقَ الْأَعْلَى» ”(اے اللہ!) میں سب سے اعلیٰ رفیق (یعنی تیری رفاقت) چاہتا ہوں“ اور آپ ﷺ کی روح مبارک پرواز کر گئی، پس اللہ کا شکر ہے جس نے دنیا کے آخری دن میرا اور آپ ﷺ کا لعابِ دہن ایک کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كنتُ أدخل البيتَ الذي دُفِنَ معهما عمر، والله ما دخلتُ إِلَّا وأنا مشدودٌ عليَّ ثيابي حياءً من عمر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6721 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6721 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اس گھر میں (جہاں رسول اللہ ﷺ اور میرے والد دفن تھے) اس حال میں داخل ہو جایا کرتی تھی کہ گویا وہ میرے اپنے ہی ہیں، مگر جب وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ دفن کر دیے گئے، تو اللہ کی قسم! میں کبھی وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حیا کی وجہ سے اپنے کپڑے اچھی طرح جسم پر لپیٹے بغیر داخل نہیں ہوئی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔