کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا فضالة بن وہب لیثی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: فَضالةُ بن وهب بن عُرْوة (1) بن بُجَير بن مالك بن قيس بن عامر بن ليث، أمُّه ابنةُ كَيْسان بن عامر العُتْواري، وهو أبو عبد الله فَضالة (2)، تحوَّل إلى البصرة.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ فضالہ بن وہب بن عروہ بن بجیر بن مالک بن قیس بن عامر بن لیث، جن کی والدہ کیسان بن عامر عتواری کی بیٹی تھیں، ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی اور وہ بصرہ منتقل ہو گئے تھے۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو ابن عون الواسطي، أخبرنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن أبي حرب بن أبي الأسود الدِّيلي، عن عبد الله بن فَضَالة اللَّيثي، عن أبيه قال: علَّمني رسولُ الله ﷺ، فكان فيما علَّمني قال: "حافِظْ على الصَّلوات الخمس"، فقلتُ: إنَّ هذه ساعاتٌ لي فيها أشغالٌ، فمُرْني بأمرٍ جامعٍ إذا أنا فعلته أجزأَ عنِّي، قال: فقال: "حافِظْ على العَصرَين"، قلتُ: وما العصرانِ؟ قال: "صلاةٌ (1) قبلَ طلوع الشمس، وصلاةٌ قبل غروبها" (2). ذكرُ مُصعَب بن عُمير العَبْدري (3) ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن فضالہ لیثی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے (دین کی باتیں) سکھائیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچوں نمازوں کی پابندی کرو۔“ میں نے عرض کیا: ان اوقات میں مجھے بہت سے کام ہوتے ہیں، لہٰذا آپ ﷺ مجھے کوئی ایسی جامع بات بتا دیں کہ اگر میں اسے کر لوں تو وہ میری طرف سے کافی ہو جائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم «العصرين» ”دو عصروں“ کی حفاظت کرو۔“ میں نے پوچھا: یہ عصرین کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طلوعِ آفتاب سے پہلے کی نماز (فجر) اور غروبِ آفتاب سے پہلے کی نماز (عصر)۔“