المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَبْدَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: حضرت فضالہ بن وہب لیثی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6783
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله قال: مصعبُ الخير هو ابن عُمير بن عُبيد بن هاشم بن عبد مَناف بن عبد الدار بن قُصَي، هو المُقرئُ الذي بعثه رسولُ الله ﷺ إلى الأنصار يُقرئهم القرآنَ بالمدينة قبل قدوم رسول الله ﷺ، فأسلم معه خلقٌ كثير، وشَهِدَ بدرًا (4).
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ مصعب الخیر، عمیر بن عبید بن ہاشم بن عبدمناف بن عبدالدار بن قصی کے بیٹے ہیں، یہ وہی قاری ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے آپ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے قبل اہل مدینہ کو قرآن پڑھانے کے لیے بھیجا تھا، چنانچہ ان کے ہاتھ پر بہت سے لوگ ایمان لائے اور وہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) انظر ما سلف برقم (4300).
نوٹ / توضیح: اس حوالے سے سابقہ حدیث نمبر (4300) ملاحظہ فرمائیں۔
نوٹ / توضیح: اس حوالے سے سابقہ حدیث نمبر (4300) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6783 سے ماخوذ ہے۔