المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ فَضَالَةَ بْنِ وَهْبٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا فضالة بن وہب لیثی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6782
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو ابن عون الواسطي، أخبرنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن أبي حرب بن أبي الأسود الدِّيلي، عن عبد الله بن فَضَالة اللَّيثي، عن أبيه قال: علَّمني رسولُ الله ﷺ، فكان فيما علَّمني قال: "حافِظْ على الصَّلوات الخمس"، فقلتُ: إنَّ هذه ساعاتٌ لي فيها أشغالٌ، فمُرْني بأمرٍ جامعٍ إذا أنا فعلته أجزأَ عنِّي، قال: فقال: "حافِظْ على العَصرَين"، قلتُ: وما العصرانِ؟ قال: "صلاةٌ (1) قبلَ طلوع الشمس، وصلاةٌ قبل غروبها" (2). ذكرُ مُصعَب بن عُمير العَبْدري (3) ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن فضالہ لیثی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے (دین کی باتیں) سکھائیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچوں نمازوں کی پابندی کرو۔“ میں نے عرض کیا: ان اوقات میں مجھے بہت سے کام ہوتے ہیں، لہٰذا آپ ﷺ مجھے کوئی ایسی جامع بات بتا دیں کہ اگر میں اسے کر لوں تو وہ میری طرف سے کافی ہو جائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم «العصرين» ”دو عصروں“ کی حفاظت کرو۔“ میں نے پوچھا: یہ عصرین کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طلوعِ آفتاب سے پہلے کی نماز (فجر) اور غروبِ آفتاب سے پہلے کی نماز (عصر)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) لفظ "صلاة" سقط من (م)، وسقط من (ص): "صلاة قبل"، والمثبت من (ب).
نوٹ / توضیح: لفظ "صلاۃ" نسخہ (م) سے ساقط ہے، جبکہ نسخہ (ص) سے "صلاۃ قبل" کے الفاظ ساقط ہیں، ہم نے نسخہ (ب) کے مطابق اسے درج کیا ہے۔
(2) إسناده حسن. وقد سلف الكلام عليه برقم (51).
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے اور اس پر بحث پہلے حدیث نمبر (51) کے تحت گزر چکی ہے۔
وأخرجه أبو داود (428) عن عمرو بن عون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود نے (428) میں عمرو بن عون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) في النسخ الخطية: العبدي، وإنما العبدي نسبة إلى عبد القيس من ربيعة بن نزار كما في "اللباب" لابن الأثير 2/ 314، وأثبتنا الجادة، وهي النسبة إلى عبد الدار.
ناموں کی تحقیق: قلمی نسخوں میں "العبدی" لکھا ہے، جبکہ العبدی کی نسبت ربیعہ بن نزار کے قبیلے عبد القیس کی طرف ہوتی ہے (جیسا کہ ابن اثیر کی "اللباب" 2/ 314 میں ہے)۔ ہم نے اسے معروف طریقے پر "العبدری" (قبیلہ عبد الدار کی نسبت سے) ثابت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: لفظ "صلاۃ" نسخہ (م) سے ساقط ہے، جبکہ نسخہ (ص) سے "صلاۃ قبل" کے الفاظ ساقط ہیں، ہم نے نسخہ (ب) کے مطابق اسے درج کیا ہے۔
(2) إسناده حسن. وقد سلف الكلام عليه برقم (51).
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے اور اس پر بحث پہلے حدیث نمبر (51) کے تحت گزر چکی ہے۔
وأخرجه أبو داود (428) عن عمرو بن عون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود نے (428) میں عمرو بن عون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) في النسخ الخطية: العبدي، وإنما العبدي نسبة إلى عبد القيس من ربيعة بن نزار كما في "اللباب" لابن الأثير 2/ 314، وأثبتنا الجادة، وهي النسبة إلى عبد الدار.
ناموں کی تحقیق: قلمی نسخوں میں "العبدی" لکھا ہے، جبکہ العبدی کی نسبت ربیعہ بن نزار کے قبیلے عبد القیس کی طرف ہوتی ہے (جیسا کہ ابن اثیر کی "اللباب" 2/ 314 میں ہے)۔ ہم نے اسے معروف طریقے پر "العبدری" (قبیلہ عبد الدار کی نسبت سے) ثابت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6782 سے ماخوذ ہے۔