کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا شداد بن الہاد لیثی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خليفة بن خيَّاط قال: شدَّادُ بن الهاد بن عمرو بن عبد الله بن جابر بن نَمِر بن عامر بن ليث بن بكر، واسمُ الهادِ أسامةُ، وهو أبو عبد الله بن شدَّاد بن الهاد، تحوَّل إلى الكوفة.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ شداد بن ہاد بن عمرو بن عبداللہ بن جابر بن نمر بن عامر بن لیث بن بکر ہیں، اور ہاد کا اصل نام اسامہ تھا، وہ ابو عبداللہ بن شداد بن ہاد کے والد ہیں اور وہ کوفہ منتقل ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6774
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6774] [ترقيم الشركة 6694]
أخبرناه أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خليفة، حدثنا محمد بن سلَّام، حدثنا أبو عبيدة؛ فذكر هذا النسب، وقال: إنما سُمِّي الهاد؛ لأنه كان يَهدي الطريق.
حافظ طلحہ بابر
ابو عبیدہ سے مروی ہے، انہوں نے مذکورہ بالا نسب ہی بیان کیا اور کہا کہ ان کا لقب ”ہاد“ اس لیے پڑا کیونکہ وہ راستے کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6775
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6775] [ترقيم الشركة 6695]
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جَرير بن حازم، قال: سمعتُ محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب يُحدِّث عن عبد الله بن شدَّاد بن الهاد، عن أبيه قال: خرجَ علينا رسولُ الله ﷺ في إحدى صلاتَي النهار الظُّهرِ أو العصر، وهو حاملٌ الحسن أو الحسين، فتقدَّم فوضعه عند قدمه اليمنى، فسجد رسولُ الله ﷺ سجدةً أطالها، فرفعتُ رأسي بين الناس، فإذا رسولُ الله ﷺ ساجدٌ، وإذا الغلامُ راكبٌ ظهرَه، فعُدْتُ فسجدت، فلما انصرف رسولُ الله ﷺ، قال ناسٌ: يا رسولَ الله، لقد سجدتَ في صلاتك هذه سجدةً ما كنتَ تسجدُها، أشيءٌ أُمرتَ به أو كان يُوحَى إليك؟ فقال: "كلٌّ لم يكن، ولكنَّ ابني ارتحَلَني، فكرهتُ أن أُعجِلَه حتى يقضيَ حاجتَه" (1). ذكرُ الحارث بن مالك ابنِ البَرْصاء اللَّيثي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6631 - إسناده جيد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ دن کی دو نمازوں یعنی ظہر یا عصر میں سے کسی ایک کے لیے ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ نے حسن یا حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو اٹھایا ہوا تھا، پھر آپ ﷺ آگے بڑھے اور انہیں اپنے دائیں قدم کے پاس بٹھا دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک طویل سجدہ کیا، میں نے لوگوں کے درمیان سے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے اور بچہ آپ ﷺ کی پشت پر سوار تھا، چنانچہ میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس نماز میں ایسا طویل سجدہ کیا جو آپ پہلے نہیں کیا کرتے تھے، کیا آپ کو کسی کام کا حکم دیا گیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی بات نہ تھی، بلکہ میرا یہ بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا، تو میں نے اسے جلدی اتار کر پریشان کرنا پسند نہ کیا جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6776
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وجوَّد إسنادَه الذهبي في "التلخيص".» [ترقيم الرساله 6776] [ترقيم الشركة 6696] [ترقيم العلميه 6631]