المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا شداد بن الہاد لیثی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا جَرير بن حازم، قال: سمعتُ محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب يُحدِّث عن عبد الله بن شدَّاد بن الهاد، عن أبيه قال: خرجَ علينا رسولُ الله ﷺ في إحدى صلاتَي النهار الظُّهرِ أو العصر، وهو حاملٌ الحسن أو الحسين، فتقدَّم فوضعه عند قدمه اليمنى، فسجد رسولُ الله ﷺ سجدةً أطالها، فرفعتُ رأسي بين الناس، فإذا رسولُ الله ﷺ ساجدٌ، وإذا الغلامُ راكبٌ ظهرَه، فعُدْتُ فسجدت، فلما انصرف رسولُ الله ﷺ، قال ناسٌ: يا رسولَ الله، لقد سجدتَ في صلاتك هذه سجدةً ما كنتَ تسجدُها، أشيءٌ أُمرتَ به أو كان يُوحَى إليك؟ فقال: "كلٌّ لم يكن، ولكنَّ ابني ارتحَلَني، فكرهتُ أن أُعجِلَه حتى يقضيَ حاجتَه" (1). ذكرُ الحارث بن مالك ابنِ البَرْصاء اللَّيثي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6631 - إسناده جيدسیدنا شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ دن کی دو نمازوں یعنی ظہر یا عصر میں سے کسی ایک کے لیے ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ نے حسن یا حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو اٹھایا ہوا تھا، پھر آپ ﷺ آگے بڑھے اور انہیں اپنے دائیں قدم کے پاس بٹھا دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک طویل سجدہ کیا، میں نے لوگوں کے درمیان سے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے اور بچہ آپ ﷺ کی پشت پر سوار تھا، چنانچہ میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس نماز میں ایسا طویل سجدہ کیا جو آپ پہلے نہیں کیا کرتے تھے، کیا آپ کو کسی کام کا حکم دیا گیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی بات نہ تھی، بلکہ میرا یہ بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا، تو میں نے اسے جلدی اتار کر پریشان کرنا پسند نہ کیا جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے "التلخیص" میں اس کی سند کو عمدہ (جید) قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 25/ (16033) و 45/ (27647)، والنسائي (731) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وسلف برقم (4831).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 25/ (16033) اور 45/ (27647) میں، اور امام نسائی نے (731) میں یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور یہ پہلے حدیث نمبر (4831) پر گزر چکی ہے۔