کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خيَّاط قال: عُمَيرُ بن سَلَمة بن مُنتاب بن طلحة بن جُدَى بن ضَمْرة.
حافظ طلحہ بابر
احمد بن یعقوب ثقفی نے ہمیں خبر دی، وہ موسیٰ بن زکریا سے، وہ خلیفہ بن خیاط سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: عمیر بن سلمہ بن منتاب بن طلحہ بن جدی بن ضمرہ۔
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وزياد بن الخليل التُّستَري، قالا: حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا عبد العزيز ابن أبي حازم، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن عيسى بن طلحة بن عُبيد الله، عن عُمير بن سَلَمة الضَّمْري قال: بينما نحن نسيرُ معَ رسولِ الله ﷺ وهو مُحرِمٌ ببعض نواحي الرَّوحاء، إذا نحن بحمارٍ معقور، فذكرتُ ذلك للنبيِّ ﷺ فقال: "دَعُوه"، فأتاه صاحبُه الذي عقرَه، وهو رجل من بَهْز، فقال: يا رسولَ الله، شأنَكم بهذا الحمارِ، فأمر رسولُ الله ﷺ أبا بكر أن يَقسِمَه بين الرِّفاق، ثم مرَّ فلمَّا كان بالأُثاية مرَّ بظَبْي حاقفٍ في ظلِّ شجرةٍ فيه سهمٌ، فأمرَ النبيُّ ﷺ إنسانًا فنادَى: أن لا يأخُذَه إنسانٌ، فنَفَذَ الناسُ وتركوه (1). ذكرُ أبي الجَعْد الضَّمْري ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6618 - سنده صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6618 - سنده صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں مقامِ روحاء کے کسی علاقے سے گزر رہے تھے تو ہمیں ایک زخمی گورخر ملا، میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے رہنے دو“، پھر اس کا مالک جو قبیلہ بہز کا ایک شخص تھا، حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ گورخر آپ کے حوالے ہے“، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسے مسافروں کے درمیان تقسیم کر دیں، پھر آپ ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ مقامِ اثایہ میں ایک ہرن کے پاس سے گزرے جو ایک درخت کے سائے میں کنائے سے لیٹا ہوا تھا اور اسے ایک تیر لگا ہوا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا جس نے پکار کر اعلان کیا کہ اسے کوئی نہ پکڑے، چنانچہ لوگ وہاں سے گزر گئے اور اسے وہیں چھوڑ دیا۔