حدیث نمبر: 6763
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وزياد بن الخليل التُّستَري، قالا: حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا عبد العزيز ابن أبي حازم، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن عيسى بن طلحة بن عُبيد الله، عن عُمير بن سَلَمة الضَّمْري قال: بينما نحن نسيرُ معَ رسولِ الله ﷺ وهو مُحرِمٌ ببعض نواحي الرَّوحاء، إذا نحن بحمارٍ معقور، فذكرتُ ذلك للنبيِّ ﷺ فقال: "دَعُوه"، فأتاه صاحبُه الذي عقرَه، وهو رجل من بَهْز، فقال: يا رسولَ الله، شأنَكم بهذا الحمارِ، فأمر رسولُ الله ﷺ أبا بكر أن يَقسِمَه بين الرِّفاق، ثم مرَّ فلمَّا كان بالأُثاية مرَّ بظَبْي حاقفٍ في ظلِّ شجرةٍ فيه سهمٌ، فأمرَ النبيُّ ﷺ إنسانًا فنادَى: أن لا يأخُذَه إنسانٌ، فنَفَذَ الناسُ وتركوه (1). ذكرُ أبي الجَعْد الضَّمْري ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6618 - سنده صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں مقامِ روحاء کے کسی علاقے سے گزر رہے تھے تو ہمیں ایک زخمی گورخر ملا، میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے رہنے دو“، پھر اس کا مالک جو قبیلہ بہز کا ایک شخص تھا، حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ گورخر آپ کے حوالے ہے“، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسے مسافروں کے درمیان تقسیم کر دیں، پھر آپ ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ مقامِ اثایہ میں ایک ہرن کے پاس سے گزرے جو ایک درخت کے سائے میں کنائے سے لیٹا ہوا تھا اور اسے ایک تیر لگا ہوا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا جس نے پکار کر اعلان کیا کہ اسے کوئی نہ پکڑے، چنانچہ لوگ وہاں سے گزر گئے اور اسے وہیں چھوڑ دیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6763
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح كما قال الذهبي في "التلخيص".» [ترقيم الرساله 6763] [ترقيم الشركة 6683] [ترقيم العلميه 6618]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح كما قال الذهبي في "التلخيص".
درجۂ حدیث: علامہ ذہبی کے بقول اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه مختصرًا النسائي (4837)، وابن حبان (5112) من طريق بكر بن مضر، عن يزيد ابن عبد الله بن الهاد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی اور ابن حبان نے بقر بن مضر کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه بتمامه أحمد 24/ (15450) عن هشيم، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن محمد ابن إبراهيم التيمي، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (24/ 15450) میں ہشیم عن یحییٰ انصاری کی سند سے مکمل طور پر روایت کیا ہے۔
وخالف هشيمًا مالكٌ في "الموطأ" 1/ 351 - ومن طريقه النسائي (3786)، وابن حبان (5111) - ويزيدُ بن هارون عند أحمد 25/ (15744)، فروياه (مالك ويزيد) عن يحيى الأنصاري، به عن عمير بن سلمة، عن الرجل البَهْزي. فجعلاه من مسند البهزي، واسمه زيد بن كعب. وانظر لهذا الخلاف "علل الدارقطني" (3182) فقد استوعبها. وهذا من الاختلاف الذي لا يضرُّ، لأنَّ الصحابة كلهم ثقات عدول.
فنی نکتہ / علّت: امام مالک اور یزید بن ہارون نے اس روایت میں ہشیم کی مخالفت کی ہے؛ انہوں نے اسے "عمیر بن سلمہ" کے واسطے سے "بہزی" (زید بن کعب) سے مروی قرار دیا ہے (یعنی اسے مسندِ بہزی میں شامل کیا ہے)۔
اہم نکتہ: امام دارقطنی نے "العلل" میں اس اختلاف کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ تاہم یہ ایسا اختلاف ہے جو حدیث کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا کیونکہ تمام صحابہ کرام ثقہ اور عادل ہیں۔
قوله: "معقور"، يقال: عَقَر البعيرَ والفرس بالسيف فانْعَقَر، أي: ضرب به قوائمه.
نوٹ / توضیح: لفظ "معقور" کا مطلب ہے وہ جانور (اونٹ یا گھوڑا) جس کی ٹانگوں پر تلوار سے ضرب لگا کر اسے گرا دیا گیا ہو۔
وقوله: "حاقف" أي: نائم قد انحنى في نومه.
نوٹ / توضیح: لفظ "حاقف" کا مطلب ہے وہ (جانور) جو اس طرح سو رہا ہو کہ نیند کی حالت میں اس کا جسم مڑا ہوا یا جھکا ہوا ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6763 سے ماخوذ ہے۔