أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خيَّاط، قال: الأسودُ بن سَريع بن حِمْيَر بن عُبادة بن النزَّال بن مُرَّة بن عُبيد، له دارٌ بالبصرة بحضرةِ الجامع مما يلي بني تميم، توفِّي في عهد معاوية.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے مروی ہے کہ: اسود بن سریع بن حمیر بن عبادہ بن نزال بن مرہ بن عبید، ان کا بصرہ میں جامع مسجد کے پاس بنو تمیم والی سمت میں ایک گھر تھا اور ان کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا معاذ بن المثنَّى العَنْبري، حدثنا عبد الله بن سوَّار، حدثنا عبد الله بن بكر المُزَني، حدثنا الحسن قال: قال الأسود بن سَريع: يا رسولَ الله، ألا أُنشِدُك محامدَ حَمِدتُ بها ربِّي ﵎؟ فقال: "إنَّ ربَّك ﵎ يُحِبُّ الحمدَ"، ولم يستزِدْه (1) على ذلك (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6575 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6575 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کو وہ تعریفی کلمات نہ سناؤں جن کے ذریعے میں نے اپنے رب عزوجل کی حمد بیان کی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تمہارا رب عزوجل حمد کو پسند فرماتا ہے“، اور آپ ﷺ نے اس پر مزید کچھ نہیں کہا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عبد الله ابن سليمان، حدثنا مَعمَر بن بكَّار السَّعدي، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن أبي بَكْرة، عن الأسود بن سَريع التميمي قال: قدمتُ على نبيِّ الله ﷺ، فقلتُ: يا نبيَّ الله، قد قلتُ شِعرًا أثنيتُ فيه على الله ﵎ ومدحتُك، فقال: "أمَّا ما أثنيتَ على الله فهاتِه، وما مدحتَني به فدَعْه"، فجعلتُ أُنشدُه، فدخل رجلٌ طُوَال أقنَى، فقال لي: "أمسِكْ"، فلما خرج، قال: "هاتِ" فجعلتُ أُنشِدُه، فلم ألبَثْ (3) أن عاد فقال لي: "أمسِكْ"، فلما خرج قال: "هاتِ"، فقلتُ: من هذا يا نبيَّ الله الذي إذا دخل قلتَ: "أمسِكْ" وإذا خرج قلتَ: "هاتِ"؟ قال: "هذا عمرُ بن الخطاب، وليس من الباطلِ في شيء" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جاريةَ (1) بن قُدَامة التميمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6576 - معمر بن بكار له مناكير
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ جاريةَ (1) بن قُدَامة التميمي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6576 - معمر بن بكار له مناكير
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسود بن سریع تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے کچھ اشعار کہے ہیں جن میں اللہ عزوجل کی ثنا بیان کی ہے اور آپ کی مدح کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم نے اللہ کی ثنا بیان کی ہے وہ سناؤ، اور جو میری مدح کی ہے اسے رہنے دو“، چنانچہ میں سنانے لگا، اتنے میں ایک دراز قد اور نمایاں ناک والے شخص داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”رک جاؤ“، جب وہ چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سناؤ“، میں پھر سنانے لگا، ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ دوبارہ آ گئے تو آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”رک جاؤ“، جب وہ (دوبارہ) چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سناؤ“، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! یہ کون شخص ہیں جن کے آنے پر آپ فرماتے ہیں ”رک جاؤ“ اور چلے جانے پر فرماتے ہیں ”سناؤ“؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ عمر بن خطاب ہیں، اور باطل (لہو و لعب) سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔