کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا بجیر رضی اللہ عنہ کی اپنے بھائی سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو اسلام کی دعوت اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا اور قصیدہ بانت سعاد
أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد بن محمَّد بن عُبيد بن عبد الملك الأَسَديُّ بهَمَذانَ، حدثنا إبراهيم بن الحُسين بن دِيزِيلَ، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثني الحَجَّاج بن ذي الرُّقَيبة بن عبد الرحمن ابن كعب بن زُهَير بن أبي سُلْمى المُزَني، عن أبيه، عن جدِّه قال: خرج كعبٌ وبُجَيرٌ ابنا زهير حتى أتَيا أَبرَقَ العَزَّافِ، فقال بُجَير لكعب: اثبُتْ في عَجَل (2) هذا المكان حتى آتيَ هذا الرجلَ - يعني رسولَ الله ﷺ فَأَسْمَعَ ما يقول، فَثَبَتَ كعبٌ وخرج بُجَير فجاء رسولَ الله ﷺ فعرض عليه الإسلامَ، فأسلمَ، فبلغ ذلك كعبًا، فقال: ألَا أبلِغا عني بُجيرًا رسالةً … على أيِّ شيءٍ وَيْبَ غَيرِك دَلَّكَا على خُلُقٍ لم تُلفِ أمًّا ولا أبًا … عليهِ ولم تُدرِكُ عليه أخًا لَكَا سَقَاكَ أبو بكرٍ بكأسٍ رَوِيَّةٍ … وأَنْهَلَكَ المأمونُ منها وعَلَّكَا فلما بلغ الأبياتُ رسولَ الله ﷺ أهدَرَ دمَه، فقال: "مَن لقيَ كعبًا فليَقتُلْه". فكتَبَ بذلك يُجَيرٌ إلى أخيه يَذكُر له أنَّ رسول الله ﷺ قد أهدَرَ دَمَه، ويقول له: النَّجَاءَ، وما أُراك تَنفلِتُ، ثم كتب إليه بعد ذلك: اعلَمْ أنَّ رسول الله ﷺ لا يأتيه أحدٌ يَشْهَدُ أن لا إله إلَّا الله، وأن محمدًا رسول الله، إلَّا قَبلَ ذلك وأسقَطَ ما كان قبلَ ذلك، فإذا جاءك كتابي هذا فأسلمْ وأَقبِلْ. فأسلَمَ كعبٌ، وقال القصيدةَ التي يَمدَحُ فيها رسولَ الله ﷺ، ثم أقَبَل حتى أناخ راحلتَه بباب مسجدِ رسول الله ﷺ، ثم دخل المسجدَ ورسولُ الله ﷺ مع أصحابه مكانَ المائدةِ من القوم، مُتحلِّقون معه حَلْقةً دونَ حَلْقَةٍ، يلتفتُ إلى هؤلاء مرةً فيحدِّثُهم، وإلى هؤلاء مرةً فيحدِّثُهم، قال كعب: فأنَحْتُ راحِلَتي بباب المسجد، فعَرَفتُ رسولَ الله ﷺ بالصِّفَة، فتخطَّيتُ حتى جلستُ إليه فأسلمتُ، فقلت: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وأنك رسولُ الله، الأمانَ يا رسول الله، قال: "ومَن أنتَ؟ " قلت: أنا كعبُ بن زُهَير، قال: "الذي يقولُ"، ثم الْتفَتَ إلى أبي بكر فقال: "كيف قالَ يا أبا بكرٍ؟ " فأنشَدَه أبو بكر: سَقَاكَ أبو بكرٍ بكأسٍ رَوِيَّةٍ … وأَنْهَلَكَ المأمونُ منها وعَلَّكَا قال: يا رسول الله، ما قلتُ، هكذا، قال: و"كيف قلت؟ " قال: إنما قلتُ: سَقَاَك أبو بكرٍ بكأسٍ رَوِيَّةٍ … وأَنْهَلَكَ المأمورُ منها وعَلَّكَا فقال رسول الله ﷺ: "مأمورٌ واللهِ". ثم أنشَدَه القصيدة كلَّها حتى أَتى على آخرِها. وأمْلاها عليَّ الحجّاجُ بن ذي الرُّقَيبة حتى أتى على آخرها؛ وهي هذه القصيدةُ: بانَتْ سُعادُ فقلبي اليومَ مَتْبولُ … متيَّمٌ عندَها لم يُفدَ مَغلولُ وما سعادُ غَدَاةَ البَيْنِ إِذْ ظَعَنوا … إِلَّا أَغَنُّ غَضِيضُ الطَّرْفِ مكحولُ تَجْلُو عَوارِضَ ذِي ظُلْمٍ إِذا ابْتَسمَتْ … كأَنها مُنهَلٌ بالكأسِ معلولُ سَحَّ السُّقاةُ عليها ماءَ مَحنِيةٍ … من ماءِ أبطَحَ أَمْسَى وهُوَ مشمولُ تَنفي الرياحُ القَذَى عنه وأفرَطَهُ … من صَوْبِ غادَيةٍ بِيضٌ يَعاليلُ سَقْيًا لها خُلَّةً لو أنها صَدَقَت … مَوعودَها ولَوِ انَّ النُّصح مقبولُ لكنَّها خُلّةٌ قد سِيطَ من دمِها … فَجْعٌ ووَلْعٌ وإخلافٌ وتبديلُ فما تدومُ على حالٍ تكونُ بها … كما تلوَّنُ في أثوابها الغُولُ فلا تَمسَّكُ بالوَصل الذي زَعَمَت … إلّا كما يُمِسكُ الماءَ الغَرابيلُ كانت مَواعيدُ عُرقُوبٍ لها مَثَلًا … وما مواعيدُها إلَّا الأباطيلُ فلا يَغُرَّنْكَ ما مَنَّت وما وَعَدَت … إنَّ الأمانيَّ والأحلامَ تضليلُ أمسَتْ سعادُ بأرضٍ ما يُبلِّغُها … إلّا العِتاقُ النَّجيباتُ المَراسيلُ ولنْ يُبلِّغَها إلَّا عُذافِرةٌ … فيها على الأَيْنِ إرقالٌ وتَبْغيلُ مِن كل نصَّاحَةِ الذِّفْرَى إِذا عَرِقَت … عُرضَتها طامسُ الأعلامِ مجهولُ يَمشي القُرَادُ عليها ثمَّ يُزلِقُهُ … عنها اللَّبَانُ وأقرابٌ زَهاليلُ عَيْرانةٌ قُذِفَت بِالنَّحْضِ عن عُرضٍ … ومِرفَقٌ عن ضُلوعِ الزَّوْرِ (1) مفتولُ كأنما فاتَ عينَيها ومَذبَحَها … من خَطْمِها ومن اللَّحْيينِ بِرطِيلُ تُمِرُّ مِثلَ عَسِيبِ النَّخل ذا خُصَلٍ … في غارِزٍ لم تَخَوَّنهُ الأَحاليلُ قنْواءُ في حُرَّتَيها للبَصيرِ بها … عِتقٌ مُبِينٌ وفي الخدَّينِ تسهيلُ تَخْذي على يَسَراتٍ وَهْيَ لاهِيَةٌ … ذَوابِلُ وَقْعُهُنَّ الأرضَ تحليلُ حَرْفٌ أبُوها أخُوها من مُهجَّنةٍ … وعمُّها خالُها قَوْداءُ شِمْليلُ سُمْرُ العُجَايَاتِ يَترُكنَ الحَصَا زِيَمًا … ما إنْ يَقِيهِنَّ حَدَّ الأُكمِ تنعيلُ يومًا تَظَلُّ حِدَابُ الأَرضِ يَرفَعُها … من اللوامِعِ تخليطٌ وتَزْيلُ كأَنَّ (1) أَوْبَ يَدَيها بعدما نَجِدَت … وقد تَلَفَّعَ بالقُورِ العَساقيلُ أَوْبُ يَدَيْ ثاكِلٍ شَمْطَاءَ مُعْوِلةٍ … قامت تُجاوِبُها شُمْطٌ مَثَاكِيلُ نوَّاحةٌ رِخْوةُ الصَّبْعَينِ ليس لها … لمَّا نَعَى بِكْرَها النَّاعُونَ معقولُ تَسعَى الغُوَاةُ بِدَفَّيها وقِيلُهُمُ … بأنَّكَ ابنَ أبي سُلْمى لمقتولُ خَلُّوا طَريقَ يَدَيها لا أبالكمُ … فكلُّ ما قَدَّرَ الرحمنُ مفعولُ كلُّ ابنِ أُنثى وإن طالتْ سَلَامتُهُ … يومًا على آلةٍ حَدْباءَ محمولُ أُنبِئتُ أنَّ رسولَ الله أوعَدَني … والعفوُ عند رسولِ الله مأمولُ فقد أَتيتُ رسولَ الله معتذرًا … والعُذُر عند رسولِ الله مقبولُ مَهلًا رسولَ الذي أعطاك نافلةَ الـ … ـقُرآنِ فيه مواعيظٌ وتفصيلُ لا تأخُذَنِّي بأقوالِ الوُشَاةِ ولمْ … أُجرِم ولو كَثرَت عنّي الأقاويلُ لقد أقومُ مَقامًا لو يقومُ لهُ … أَرى وأَسمعُ مالو يسمعُ الفِيلُ لظَّلَّ يُرعِدُ إلّا أن يكونَ لهُ … عند الرسولِ بإذنِ الله تنويلُ حتى وَضَعتُ يميني لا أُنزِعُهُ … في كفِّ ذي نَقِماتٍ قولُه القِيلُ فكان أخوَفَ عندي إذْ أُكلِّمُهُ … إذقيلَ إنّك منسوبٌ ومسؤولُ مِن خادِرٍ شَبِكِ الأنيابِ طاعَ لَهُ … ببَطْنِ عَثَّرَ غِيلٌ دونَهُ غِيلُ يَعْدُو فيَلحَمُ ضِرغامَينِ عندَهما (2) … لحمٌ من القومِ منثورٌ خَرَاديلُ منه تَظَلُّ حَميرُ الوَحْشِ ضامِرةً (3) … ولا تُمشِّي بِوادِيهِ الأَراجيلُ ولا يَزالُ بِواديهِ أخو ثِقَةٍ … مُطرَّحُ البَزِّ والدِّرْسانِ مأكولُ إنَّ الرسولَ لنورٌ يُستضاءُ بهِ … وصارمٌ من سيوفِ الله مسلولُ في فِتْيةٍ من قريشٍ قال قائلُهمْ … ببَطنِ مكةَ لمَّا أسلَموا زُولُوا زالُوا فما زالَ أَنكاسٌ ولا كُشُفٌ … عند اللِّقاءِ ولا مِيلٌ مَعَازيلُ شُمُّ العَرَانِينِ أبطالٌ لِباسهمُ … من نَسْجِ داودَ في الهَيْجا سَرابيلُ بِيضٌ سَوابغُ قد شُكَّتْ لها حَلَقٌ … كأنها حَلَقُ القَفْعاء مجدولُ يَمشُون مَشْيَ الجِمالِ البُزْلِ يَعصِمُهُمْ … ضَرْبٌ إِذا عَرَّدَ السُّودُ التَّنابيلُ لا يَفرَحُون إذا نالَت (1) رِماحُهمُ … قومًا وليسوا مَجازيعًا إذا نِيلُوا ما يَقَعُ الطَّعَنُ إلَّا في نُحورِهُم … وما لهمْ عن حِيَاضِ الموتِ تَهليلُ (2)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حجّاج بن ذی الرقیبہ اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ زہیر کے دو بیٹوں کعب اور بجیر نے ابرق العزاف کے مقام تک سفر کیا، پھر بجیر نے کعب سے کہا کہ تم اسی جگہ ٹھہرو میں اس شخص (رسول اللہ ﷺ) کے پاس جا کر دیکھتا ہوں کہ وہ کیا کہتے ہیں، کعب وہیں ٹھہر گئے اور بجیر نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا، جب کعب کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے بجیر کو اشعار کے ذریعے پیغام بھیجا کہ تم نے ایسا کون سا راستہ اختیار کر لیا ہے جس پر تمہارے ماں باپ نہ تھے اور تمہیں ابوبکر نے ایسا جام پلایا ہے کہ تم سیر ہو گئے ہو، جب یہ اشعار رسول اللہ ﷺ تک پہنچے تو آپ ﷺ نے کعب کے خون کو مباح قرار دے دیا اور فرمایا: ”جو شخص کعب کو پائے اسے قتل کر دے۔“ بجیر نے اپنے بھائی کو خط لکھ کر خبردار کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہارے قتل کا حکم دے دیا ہے اب تمہاری نجات کی کوئی صورت نہیں، پھر دوبارہ خط لکھا کہ رسول اللہ ﷺ ہر اس شخص کا اسلام قبول کر لیتے ہیں جو توحید و رسالت کی گواہی دے اور وہ پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں، پس کعب مسلمان ہو گئے اور آپ ﷺ کی مدح میں قصیدہ لکھا اور مدینہ پہنچ کر اپنی اونٹنی مسجد کے دروازے پر بٹھائی، وہ مسجد میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان حلقہ بنائے تشریف فرما تھے، کعب نے آپ ﷺ کو حلیہ مبارک سے پہچان لیا اور قریب بیٹھ کر اسلام قبول کیا اور عرض کی: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، اے اللہ کے رسول! مجھے امان عطا فرمائیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ انہوں نے کہا: میں کعب بن زہیر ہوں، آپ ﷺ نے ان کے کہے ہوئے اشعار کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا تو انہوں نے وہ شعر پڑھا جس میں کعب نے آپ ﷺ کو ”المأمون“ (بھروسے والا) کہا تھا، کعب نے تصحیح کی کہ اے اللہ کے رسول! میں نے ”المأمور“ (اللہ کی طرف سے مامور و مقرر کردہ) کہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! وہ مامور ہی ہے“، پھر کعب نے اپنا مکمل قصیدہ سنایا جس کا ترجمہ یہ ہے: سعاد جدا ہو گئی تو آج میرا دل اس کی یاد میں غمزدہ ہے اور اس کی محبت میں ایسا گرفتار ہے کہ اسے رہا نہیں کیا گیا، جدائی کی اس صبح جب وہ لوگ کوچ کر گئے تو سعاد ایک ہرن جیسی تھی جس کی آنکھیں سیاہ اور نیچی تھیں، جب وہ مسکراتی ہے تو اس کے دانتوں کی چمک ایسی لگتی ہے جیسے کوئی ٹھنڈا پانی پی کر سیر ہو گیا ہو، لیکن وہ ایسی دوست ہے جس کی فطرت میں وعدہ خلافی اور رنگ بدلنا رچ بس گیا ہے، وہ کسی ایک حال پر قائم نہیں رہتی، اس کے وعدے عرقوب کے وعدوں کی طرح محض جھوٹ ہیں، سعاد اب ایسی دور دراز سرزمین میں جا بسی ہے جہاں تک صرف بہترین اور تیز رفتار اونٹنیاں ہی پہنچ سکتی ہیں، مجھے خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے (سزا کی) دھمکی دی ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں عفو و درگزر ہی کی امید کی جاتی ہے، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس معذرت خواہ بن کر حاضر ہوا ہوں اور اللہ کے رسول کے ہاں عذر قبول کر لیا جاتا ہے، اے اللہ کے رسول! نرمی فرمائیں، آپ ﷺ کو اس ذات نے قرآن کا تحفہ عطا فرمایا ہے جس میں نصیحتیں اور تفصیل موجود ہے، مجھے چغل خوروں کی باتوں کی وجہ سے سزا نہ دیجیے گا جبکہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا، میں ایک ایسے مقام پر کھڑا ہوں کہ اگر ہاتھی بھی وہاں کھڑا ہو کر وہ سب دیکھے اور سنے جو میں دیکھ اور سن رہا ہوں تو وہ بھی لرز جائے الا یہ کہ اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے امان مل جائے، میں نے اپنا دایاں ہاتھ آپ ﷺ کے دستِ مبارک میں دے دیا ہے اور اب میں اسے نہیں نکالوں گا، بیشک رسول اللہ ﷺ وہ نور ہیں جس سے ہدایت کی روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اللہ کی تلواروں میں سے ایک بے نیام اور کاٹ دار تلوار ہیں، آپ قریش کے ان جوانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے مکہ میں اسلام لانے کے بعد ہجرت کی، وہ بہادر ہیں جو جنگ کے میدان میں حضرت داؤد علیہ السلام کی بنائی ہوئی لمبی زرہیں پہنتے ہیں، وہ میدانِ جنگ میں اونٹوں کی طرح وقار سے چلتے ہیں، جب وہ کسی قوم پر غلبہ پاتے ہیں تو اتراتے نہیں اور اگر خود تکلیف میں ہوں تو گھبراتے نہیں، دشمن کا وار ہمیشہ ان کے سینوں پر ہوتا ہے (کیونکہ وہ پیٹھ نہیں پھیرتے) اور موت کے گھاٹ اترنے سے وہ کبھی جی نہیں چراتے۔
وحدَّثَنا القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا إبراهيم بن المنذِر، حدثني مَعْن بن عيسى، حدثني محمد بن عبد الرحمن الأوقَصُ، عن ابن جُدْعانَ قال: أنشَدَ كعبُ بن زهير بن أبي سُلْمى رسولَ الله ﷺ في المسجد: بانَتْ سعادُ فقَلْبي اليومَ متبولُ … مُتيَّمٌ عندَها لم يُفدِ مغلولُ (1)
حافظ طلحہ بابر
ابن جدعان سے روایت ہے کہ کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ نے مسجد نبوی میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنا قصیدہ پیش کیا جس کا آغاز یوں تھا: ”سعاد رخصت ہوگئی تو آج میرا دل (اس کی یاد میں) غمزدہ و بیمار ہے، وہ اس کے پیچھے ایسا دیوانہ و اسیر ہے کہ جس کا کوئی فدیہ دے کر رہائی نہیں ہو سکی۔“
وحدثنا القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا إبراهيم بن المنذِر، حدثني محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقْبةً قال: أنشَدَ النبي ﷺ كعبُ بنُ زهير بانَتْ سعادُ في مسجده بالمدينة، فلما بلغ قولَه: إنَّ الرسول لَسيفٌ يُستضاءُ بهِ … وصارمٌ من سيوف الله مسلولُ في فِتْيةٍ من قُريشٍ قال قائلُهمْ … ببَطْنِ مكَّةَ لمَّا أسلَموا زُولُوا أشار رسولُ الله ﷺ بكُمِّه إلى الخَلْق ليَسمَعوا منه (2). قال: وقد كان بُجَير بن زهير كَتَبَ إلى أخيه كعبِ بن زهير بن أبي سُلْمَى يخوِّفُه ويدعوه إلى الإسلام، وقال فيها أبياتًا: مَن مُبلغٌ كعبًا فهلْ لك في الَّتي … تَلُومُ عليها باطلًا وهْيَ أحزَمُ إلى الله لا العُزَّى ولا اللَّاتِ وَحْدَهُ … فَتَنجُو إذا كان النَّجِاءُ وتَسلَمُ لَدَى يوم لا يَنجُو وليس بمُفلِتٍ … منَ النارِ إلَّا طاهرُ القلبِ مُسلِمُ فدِينُ زُهيرٍ وهُوَ لا شيءَ باطلٌ … ودِينُ أبي سُلْمى عليَّ مَحرَّمُ
هذا حديثٌ له أسانيد قد جَمَعَها إبراهيم بن المنذر الحِزَامي. فأمَّا حديثُ محمد بن فُلَيح عن موسى بن عُقْبة وحديثُ الحجَّاج بن ذي الرُّقَيبة، فإنهما صحيحان، وقد ذَكَره محمدُ بن إسحاق القُرَشي في "المغازي" مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6479 - قال الحاكم هذا وحديث ابن ذي الرقيبة صحيحان
هذا حديثٌ له أسانيد قد جَمَعَها إبراهيم بن المنذر الحِزَامي. فأمَّا حديثُ محمد بن فُلَيح عن موسى بن عُقْبة وحديثُ الحجَّاج بن ذي الرُّقَيبة، فإنهما صحيحان، وقد ذَكَره محمدُ بن إسحاق القُرَشي في "المغازي" مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6479 - قال الحاكم هذا وحديث ابن ذي الرقيبة صحيحان
حافظ طلحہ بابر
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی مسجد میں اپنا قصیدہ ”بانت سعاد“ سنایا، جب وہ اپنے اس قول پر پہنچے: ”بیشک رسول ﷺ وہ نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے، اور اللہ کی تلواروں میں سے ایک نیام سے نکلی ہوئی برہنہ تلوار ہیں۔ قریش کے ان جوانوں کے درمیان (مدح سرائی کی) جن میں سے جب کسی کہنے والے نے مکہ کے بطن میں (ہجرت کے وقت) کہا تھا کہ یہاں سے کوچ کر جاؤ (تو وہ ثابت قدم رہے)۔“ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی آستین مبارک سے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ ان کے کلام کو توجہ سے سنیں۔ راوی کہتے ہیں: اس سے قبل (کعب کے بھائی) بجیر بن زہیر نے اپنے بھائی کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ کو خط لکھا تھا جس میں انہیں (انجامِ بد سے) ڈرایا تھا اور اسلام کی دعوت دی تھی، اس میں انہوں نے یہ اشعار کہے تھے: ”کعب تک میرا یہ پیغام کون پہنچائے گا کہ کیا تم اس (دین) کے متعلق کچھ سوچو گے جس کی تم ناحق مذمت کرتے ہو حالانکہ وہی سب سے زیادہ مضبوط راستہ ہے؟ تم صرف اللہ کی طرف لوٹ آؤ، نہ کہ عزیٰ اور لات کی طرف، تاکہ جب نجات کا وقت آئے تو تم بچ جاؤ اور سلامتی پاؤ۔ اس دن جب سوائے پاک دل مسلمان کے کوئی بھی آگ سے چھٹکارا پانے والا اور نجات پانے والا نہیں ہوگا۔ پس زہیر کا دین تو کچھ بھی نہیں بلکہ باطل ہے، اور ابوسلمیٰ کا دین مجھ پر حرام ہے۔“
یہ ایسی روایت ہے جس کی سندوں کو ابراہیم بن منذر حزامی نے جمع کیا ہے، جہاں تک محمد بن فلیح کی موسیٰ بن عقبہ سے مروی روایت اور حجاج بن ذی رقیبہ کی روایات کا تعلق ہے تو وہ دونوں صحیح ہیں، اور محمد بن اسحاق قرشی نے ”المغازی“ میں اسے اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
یہ ایسی روایت ہے جس کی سندوں کو ابراہیم بن منذر حزامی نے جمع کیا ہے، جہاں تک محمد بن فلیح کی موسیٰ بن عقبہ سے مروی روایت اور حجاج بن ذی رقیبہ کی روایات کا تعلق ہے تو وہ دونوں صحیح ہیں، اور محمد بن اسحاق قرشی نے ”المغازی“ میں اسے اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔