❮
❯
حدیث نمبر: 6620
أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد بن محمَّد بن عُبيد بن عبد الملك الأَسَديُّ بهَمَذانَ، حدثنا إبراهيم بن الحُسين بن دِيزِيلَ، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثني الحَجَّاج بن ذي الرُّقَيبة بن عبد الرحمن ابن كعب بن زُهَير بن أبي سُلْمى المُزَني، عن أبيه، عن جدِّه قال: خرج كعبٌ وبُجَيرٌ ابنا زهير حتى أتَيا أَبرَقَ العَزَّافِ، فقال بُجَير لكعب: اثبُتْ في عَجَل (2) هذا المكان حتى آتيَ هذا الرجلَ - يعني رسولَ الله ﷺ فَأَسْمَعَ ما يقول، فَثَبَتَ كعبٌ وخرج بُجَير فجاء رسولَ الله ﷺ فعرض عليه الإسلامَ، فأسلمَ، فبلغ ذلك كعبًا، فقال: ألَا أبلِغا عني بُجيرًا رسالةً … على أيِّ شيءٍ وَيْبَ غَيرِك دَلَّكَا على خُلُقٍ لم تُلفِ أمًّا ولا أبًا … عليهِ ولم تُدرِكُ عليه أخًا لَكَا سَقَاكَ أبو بكرٍ بكأسٍ رَوِيَّةٍ … وأَنْهَلَكَ المأمونُ منها وعَلَّكَا فلما بلغ الأبياتُ رسولَ الله ﷺ أهدَرَ دمَه، فقال: "مَن لقيَ كعبًا فليَقتُلْه". فكتَبَ بذلك يُجَيرٌ إلى أخيه يَذكُر له أنَّ رسول الله ﷺ قد أهدَرَ دَمَه، ويقول له: النَّجَاءَ، وما أُراك تَنفلِتُ، ثم كتب إليه بعد ذلك: اعلَمْ أنَّ رسول الله ﷺ لا يأتيه أحدٌ يَشْهَدُ أن لا إله إلَّا الله، وأن محمدًا رسول الله، إلَّا قَبلَ ذلك وأسقَطَ ما كان قبلَ ذلك، فإذا جاءك كتابي هذا فأسلمْ وأَقبِلْ. فأسلَمَ كعبٌ، وقال القصيدةَ التي يَمدَحُ فيها رسولَ الله ﷺ، ثم أقَبَل حتى أناخ راحلتَه بباب مسجدِ رسول الله ﷺ، ثم دخل المسجدَ ورسولُ الله ﷺ مع أصحابه مكانَ المائدةِ من القوم، مُتحلِّقون معه حَلْقةً دونَ حَلْقَةٍ، يلتفتُ إلى هؤلاء مرةً فيحدِّثُهم، وإلى هؤلاء مرةً فيحدِّثُهم، قال كعب: فأنَحْتُ راحِلَتي بباب المسجد، فعَرَفتُ رسولَ الله ﷺ بالصِّفَة، فتخطَّيتُ حتى جلستُ إليه فأسلمتُ، فقلت: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وأنك رسولُ الله، الأمانَ يا رسول الله، قال: "ومَن أنتَ؟ " قلت: أنا كعبُ بن زُهَير، قال: "الذي يقولُ"، ثم الْتفَتَ إلى أبي بكر فقال: "كيف قالَ يا أبا بكرٍ؟ " فأنشَدَه أبو بكر: سَقَاكَ أبو بكرٍ بكأسٍ رَوِيَّةٍ … وأَنْهَلَكَ المأمونُ منها وعَلَّكَا قال: يا رسول الله، ما قلتُ، هكذا، قال: و"كيف قلت؟ " قال: إنما قلتُ: سَقَاَك أبو بكرٍ بكأسٍ رَوِيَّةٍ … وأَنْهَلَكَ المأمورُ منها وعَلَّكَا فقال رسول الله ﷺ: "مأمورٌ واللهِ". ثم أنشَدَه القصيدة كلَّها حتى أَتى على آخرِها. وأمْلاها عليَّ الحجّاجُ بن ذي الرُّقَيبة حتى أتى على آخرها؛ وهي هذه القصيدةُ: بانَتْ سُعادُ فقلبي اليومَ مَتْبولُ … متيَّمٌ عندَها لم يُفدَ مَغلولُ وما سعادُ غَدَاةَ البَيْنِ إِذْ ظَعَنوا … إِلَّا أَغَنُّ غَضِيضُ الطَّرْفِ مكحولُ تَجْلُو عَوارِضَ ذِي ظُلْمٍ إِذا ابْتَسمَتْ … كأَنها مُنهَلٌ بالكأسِ معلولُ سَحَّ السُّقاةُ عليها ماءَ مَحنِيةٍ … من ماءِ أبطَحَ أَمْسَى وهُوَ مشمولُ تَنفي الرياحُ القَذَى عنه وأفرَطَهُ … من صَوْبِ غادَيةٍ بِيضٌ يَعاليلُ سَقْيًا لها خُلَّةً لو أنها صَدَقَت … مَوعودَها ولَوِ انَّ النُّصح مقبولُ لكنَّها خُلّةٌ قد سِيطَ من دمِها … فَجْعٌ ووَلْعٌ وإخلافٌ وتبديلُ فما تدومُ على حالٍ تكونُ بها … كما تلوَّنُ في أثوابها الغُولُ فلا تَمسَّكُ بالوَصل الذي زَعَمَت … إلّا كما يُمِسكُ الماءَ الغَرابيلُ كانت مَواعيدُ عُرقُوبٍ لها مَثَلًا … وما مواعيدُها إلَّا الأباطيلُ فلا يَغُرَّنْكَ ما مَنَّت وما وَعَدَت … إنَّ الأمانيَّ والأحلامَ تضليلُ أمسَتْ سعادُ بأرضٍ ما يُبلِّغُها … إلّا العِتاقُ النَّجيباتُ المَراسيلُ ولنْ يُبلِّغَها إلَّا عُذافِرةٌ … فيها على الأَيْنِ إرقالٌ وتَبْغيلُ مِن كل نصَّاحَةِ الذِّفْرَى إِذا عَرِقَت … عُرضَتها طامسُ الأعلامِ مجهولُ يَمشي القُرَادُ عليها ثمَّ يُزلِقُهُ … عنها اللَّبَانُ وأقرابٌ زَهاليلُ عَيْرانةٌ قُذِفَت بِالنَّحْضِ عن عُرضٍ … ومِرفَقٌ عن ضُلوعِ الزَّوْرِ (1) مفتولُ كأنما فاتَ عينَيها ومَذبَحَها … من خَطْمِها ومن اللَّحْيينِ بِرطِيلُ تُمِرُّ مِثلَ عَسِيبِ النَّخل ذا خُصَلٍ … في غارِزٍ لم تَخَوَّنهُ الأَحاليلُ قنْواءُ في حُرَّتَيها للبَصيرِ بها … عِتقٌ مُبِينٌ وفي الخدَّينِ تسهيلُ تَخْذي على يَسَراتٍ وَهْيَ لاهِيَةٌ … ذَوابِلُ وَقْعُهُنَّ الأرضَ تحليلُ حَرْفٌ أبُوها أخُوها من مُهجَّنةٍ … وعمُّها خالُها قَوْداءُ شِمْليلُ سُمْرُ العُجَايَاتِ يَترُكنَ الحَصَا زِيَمًا … ما إنْ يَقِيهِنَّ حَدَّ الأُكمِ تنعيلُ يومًا تَظَلُّ حِدَابُ الأَرضِ يَرفَعُها … من اللوامِعِ تخليطٌ وتَزْيلُ كأَنَّ (1) أَوْبَ يَدَيها بعدما نَجِدَت … وقد تَلَفَّعَ بالقُورِ العَساقيلُ أَوْبُ يَدَيْ ثاكِلٍ شَمْطَاءَ مُعْوِلةٍ … قامت تُجاوِبُها شُمْطٌ مَثَاكِيلُ نوَّاحةٌ رِخْوةُ الصَّبْعَينِ ليس لها … لمَّا نَعَى بِكْرَها النَّاعُونَ معقولُ تَسعَى الغُوَاةُ بِدَفَّيها وقِيلُهُمُ … بأنَّكَ ابنَ أبي سُلْمى لمقتولُ خَلُّوا طَريقَ يَدَيها لا أبالكمُ … فكلُّ ما قَدَّرَ الرحمنُ مفعولُ كلُّ ابنِ أُنثى وإن طالتْ سَلَامتُهُ … يومًا على آلةٍ حَدْباءَ محمولُ أُنبِئتُ أنَّ رسولَ الله أوعَدَني … والعفوُ عند رسولِ الله مأمولُ فقد أَتيتُ رسولَ الله معتذرًا … والعُذُر عند رسولِ الله مقبولُ مَهلًا رسولَ الذي أعطاك نافلةَ الـ … ـقُرآنِ فيه مواعيظٌ وتفصيلُ لا تأخُذَنِّي بأقوالِ الوُشَاةِ ولمْ … أُجرِم ولو كَثرَت عنّي الأقاويلُ لقد أقومُ مَقامًا لو يقومُ لهُ … أَرى وأَسمعُ مالو يسمعُ الفِيلُ لظَّلَّ يُرعِدُ إلّا أن يكونَ لهُ … عند الرسولِ بإذنِ الله تنويلُ حتى وَضَعتُ يميني لا أُنزِعُهُ … في كفِّ ذي نَقِماتٍ قولُه القِيلُ فكان أخوَفَ عندي إذْ أُكلِّمُهُ … إذقيلَ إنّك منسوبٌ ومسؤولُ مِن خادِرٍ شَبِكِ الأنيابِ طاعَ لَهُ … ببَطْنِ عَثَّرَ غِيلٌ دونَهُ غِيلُ يَعْدُو فيَلحَمُ ضِرغامَينِ عندَهما (2) … لحمٌ من القومِ منثورٌ خَرَاديلُ منه تَظَلُّ حَميرُ الوَحْشِ ضامِرةً (3) … ولا تُمشِّي بِوادِيهِ الأَراجيلُ ولا يَزالُ بِواديهِ أخو ثِقَةٍ … مُطرَّحُ البَزِّ والدِّرْسانِ مأكولُ إنَّ الرسولَ لنورٌ يُستضاءُ بهِ … وصارمٌ من سيوفِ الله مسلولُ في فِتْيةٍ من قريشٍ قال قائلُهمْ … ببَطنِ مكةَ لمَّا أسلَموا زُولُوا زالُوا فما زالَ أَنكاسٌ ولا كُشُفٌ … عند اللِّقاءِ ولا مِيلٌ مَعَازيلُ شُمُّ العَرَانِينِ أبطالٌ لِباسهمُ … من نَسْجِ داودَ في الهَيْجا سَرابيلُ بِيضٌ سَوابغُ قد شُكَّتْ لها حَلَقٌ … كأنها حَلَقُ القَفْعاء مجدولُ يَمشُون مَشْيَ الجِمالِ البُزْلِ يَعصِمُهُمْ … ضَرْبٌ إِذا عَرَّدَ السُّودُ التَّنابيلُ لا يَفرَحُون إذا نالَت (1) رِماحُهمُ … قومًا وليسوا مَجازيعًا إذا نِيلُوا ما يَقَعُ الطَّعَنُ إلَّا في نُحورِهُم … وما لهمْ عن حِيَاضِ الموتِ تَهليلُ (2)
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حجّاج بن ذی الرقیبہ اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ زہیر کے دو بیٹے کعب اور بجیر نکلے یہاں تک کہ ابرق العزاف کے مقام پر پہنچے، پھر بجیر نے کعب سے کہا کہ تم اسی جگہ ٹھہرو یہاں تک کہ میں اس شخص (رسول اللہ ﷺ) کے پاس جا کر سنوں کہ وہ کیا کہتے ہیں، کعب وہیں ٹھہر گئے اور بجیر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ان پر اسلام پیش کیا تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا، جب کعب کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے کہا: ”سنو! میری طرف سے بجیر کو یہ پیغام پہنچا دو کہ تیرے سوا کسی اور کی خرابی ہو، تمہیں کس چیز کی طرف رہنمائی کی گئی ہے؟ ایسے طریقے کی طرف جس پر تم نے نہ اپنی ماں کو پایا نہ باپ کو، اور نہ ہی اپنے کسی بھائی کو اس پر پایا۔ تمہیں ابوبکر نے ایک سیراب کر دینے والا جام پلایا، اور مامون نے تمہیں اس میں سے پہلی بار بھی پلایا اور دوسری بار بھی۔“ جب یہ اشعار رسول اللہ ﷺ تک پہنچے تو آپ ﷺ نے کعب کے خون کو مباح قرار دے دیا اور فرمایا: ”جو شخص کعب کو پائے اسے قتل کر دے۔“ بجیر نے اپنے بھائی کو خط لکھ کر بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہارا خون مباح قرار دے دیا ہے، اور ان سے کہا: بچ نکلو! اور میرا خیال نہیں کہ تم بچ سکو گے، پھر اس کے بعد انہیں لکھا: جان لو کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جو بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوا آئے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ اس سے یہ قبول فرما لیتے ہیں اور جو کچھ اس سے پہلے تھا اسے ساقط کر دیتے ہیں، لہٰذا جب میرا یہ خط تمہیں ملے تو اسلام لے آؤ اور چلے آؤ۔ پس کعب مسلمان ہو گئے اور وہ قصیدہ کہا جس میں رسول اللہ ﷺ کی مدح کی ہے، پھر وہ آئے یہاں تک کہ اپنی اونٹنی رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے دروازے پر بٹھائی، پھر مسجد میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان اس طرح تشریف فرما تھے جیسے لوگوں کے بیچ دسترخوان ہو، وہ آپ ﷺ کے گرد حلقہ در حلقہ بیٹھے تھے، آپ ﷺ کبھی ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے گفتگو فرماتے اور کبھی ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے گفتگو فرماتے۔ کعب کہتے ہیں: میں نے اپنی اونٹنی مسجد کے دروازے پر بٹھائی اور رسول اللہ ﷺ کو (بتائے گئے) اوصاف سے پہچان لیا، چنانچہ میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا آپ ﷺ کے پاس جا بیٹھا اور اسلام قبول کر لیا، اور عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، اے اللہ کے رسول! مجھے امان عطا فرمائیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ میں نے کہا: میں کعب بن زہیر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہی جو کہتا ہے“، پھر آپ ﷺ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے ابوبکر! اس نے کیسے کہا تھا؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو یہ شعر سنایا: ”تمہیں ابوبکر نے ایک سیراب کر دینے والا جام پلایا، اور مامون (بھروسے والے) نے تمہیں اس میں سے پہلی بار بھی پلایا اور دوسری بار بھی۔“ کعب نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس طرح نہیں کہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر تم نے کیسے کہا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے تو یہ کہا تھا: ”تمہیں ابوبکر نے ایک سیراب کر دینے والا جام پلایا، اور مامور (اللہ کی طرف سے مامور و مقرر کردہ) نے تمہیں اس میں سے پہلی بار بھی پلایا اور دوسری بار بھی۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! وہ مامور ہی ہے“، پھر کعب نے آپ ﷺ کو پورا قصیدہ آخر تک سنایا۔ (راوی کہتے ہیں:) حجاج بن ذی الرقیبہ نے یہ قصیدہ مجھے آخر تک لکھوایا، اور وہ قصیدہ یہ ہے: سعاد جدا ہو گئی تو آج میرا دل اس کی محبت کا مارا ہوا ہے، اس کے پیچھے دیوانہ ہے، ایسا قیدی ہے جس کا فدیہ نہیں دیا گیا، اور جدائی کی صبح جب وہ لوگ کوچ کر گئے تو سعاد ایک نرم آواز، نیچی نگاہوں اور سرمگیں آنکھوں والے ہرن کے سوا کچھ نہ تھی، جب وہ مسکراتی ہے تو چمکدار اور آب دار دانتوں کو ظاہر کرتی ہے، گویا انہیں جام سے ایک بار اور پھر دوبارہ سیراب کیا گیا ہو، جس پر ساقیوں نے وادی کے موڑ کا پانی انڈیلا ہو، کنکریلی گزرگاہ کا ایسا پانی جسے شام کو شمالی ہوا نے ٹھنڈا کر دیا ہو، ہوائیں اس سے تنکے اڑا دیتی ہیں اور صبح کی بارش برسانے والے سفید بادلوں نے اسے لبریز کر دیا ہے، کیا ہی اچھی دوست ہوتی اگر وہ اپنے وعدے کو سچا کر دکھاتی اور اگر نصیحت قبول کی جاتی، لیکن وہ ایسی دوست ہے جس کے خون میں دکھ دینا، جھوٹ، وعدہ خلافی اور رنگ بدلنا رچ بس گیا ہے، وہ کسی ایک حال پر قائم نہیں رہتی جیسے غول (بھتنی) اپنے لباس میں رنگ بدلتی ہے، اور وہ جس تعلق کا دعویٰ کرتی ہے اسے اسی طرح تھامے رکھتی ہے جیسے چھلنیاں پانی کو تھامتی ہیں، عرقوب کے وعدے اس کے لیے مثال تھے اور اس کے وعدے محض جھوٹ ہیں، پس اس نے جو آس دلائی اور جو وعدے کیے ان سے دھوکا نہ کھانا، بیشک آرزوئیں اور خواب گمراہی ہیں، سعاد اب ایسی سرزمین میں جا بسی ہے جہاں تک صرف عمدہ، نجیب اور تیز رفتار اونٹنیاں ہی پہنچ سکتی ہیں، اور وہاں تک صرف ایک مضبوط اونٹنی ہی پہنچا سکتی ہے جو تھکن کے باوجود تیز چال اور خچر جیسی رفتار سے چلتی ہو، ہر ایسی اونٹنی جس کے کانوں کے پیچھے سے پسینہ پھوٹ پڑتا ہو اور جس کا ہدف ایسا نامعلوم راستہ ہو جس کے نشانات مٹ چکے ہوں، چیچڑی اس پر چلتی ہے تو اس کا چکنا سینہ اور پہلو اسے پھسلا دیتے ہیں، وہ جنگلی گدھے کی طرح مضبوط ہے، ہر طرف سے گوشت سے بھری ہوئی، اور اس کی کہنی سینے کی پسلیوں سے ہٹ کر بٹی ہوئی ہے، گویا اس کی آنکھوں اور حلق سے آگے اس کی تھوتھنی اور دونوں جبڑے ایک لمبا پتھر ہیں، وہ کھجور کی شاخ جیسی گچھے دار دم کو ایسے تھن پر پھیرتی ہے جسے دودھ کی نالیوں نے کمزور نہیں کیا، اس کی ناک اونچی ہے، دیکھنے والے کو اس کے دونوں کانوں میں واضح نجابت نظر آتی ہے اور اس کے رخسار ہموار ہیں، وہ پتلی اور پھرتیلی ٹانگوں پر کھیلتی ہوئی سی تیز چلتی ہے، ان کا زمین پر پڑنا ایسا ہلکا ہے جیسے قسم پوری کی جا رہی ہو، وہ دبلی اور سخت ہے، اس کا باپ ہی اس کا بھائی ہے جو ایک نجیب ماں سے ہے، اور اس کا چچا ہی اس کا ماموں ہے، لمبی گردن والی اور تیز رفتار ہے، اس کے کھروں کے پٹھے گندمی ہیں جو کنکریوں کو بکھیر دیتے ہیں، ٹیلوں کی دھار سے انہیں کوئی نعل نہیں بچاتا، ایسے دن میں جب زمین کے ٹیلوں کو سراب کی چمک کبھی ملاتے اور کبھی جدا کرتے ہوئے اٹھائے رکھتی ہے، پسینے میں شرابور ہونے کے بعد، جب ٹیلوں نے سراب کی چادر اوڑھ لی ہو، اس کے اگلے پاؤں کی حرکت گویا ایک سفید بالوں والی، بین کرتی ہوئی، بیٹا کھو دینے والی عورت کے ہاتھوں کی حرکت ہے جس کے جواب میں دوسری سفید بالوں والی بیٹا کھو دینے والی عورتیں کھڑی ہو گئی ہوں، وہ نوحہ کرنے والی ہے، ڈھیلے بازوؤں والی، جب موت کی خبر دینے والوں نے اس کے پہلوٹھے کی موت کی خبر دی تو اس کے ہوش باقی نہ رہے، گمراہ لوگ اس (اونٹنی) کے دونوں پہلوؤں میں دوڑتے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ اے ابن ابی سلمیٰ! تم ضرور قتل کیے جاؤ گے، اس کے اگلے پاؤں کا راستہ چھوڑ دو، تمہارا باپ نہ رہے! رحمٰن نے جو کچھ مقدر کیا ہے وہ ہو کر رہنے والا ہے، ہر عورت کا بیٹا خواہ اس کی سلامتی کتنی ہی لمبی ہو، ایک دن کبڑی چارپائی (جنازے) پر اٹھایا جانے والا ہے، مجھے خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے (سزا کی) دھمکی دی ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں عفو و درگزر ہی کی امید کی جاتی ہے، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس معذرت خواہ بن کر حاضر ہوا ہوں اور رسول اللہ ﷺ کے ہاں عذر قبول کر لیا جاتا ہے، اے اس ذات کے رسول جس نے آپ کو قرآن کا تحفہ عطا فرمایا جس میں نصیحتیں اور تفصیل موجود ہے، نرمی فرمائیں، مجھے چغل خوروں کی باتوں کی وجہ سے سزا نہ دیجیے گا جبکہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا خواہ میرے بارے میں باتیں کتنی ہی زیادہ ہو جائیں، میں ایک ایسے مقام پر کھڑا ہوں کہ اگر ہاتھی بھی وہاں کھڑا ہو کر وہ سب دیکھے اور سنے جو میں دیکھ اور سن رہا ہوں تو وہ بھی لرزتا رہ جائے الا یہ کہ اسے اللہ کے حکم سے رسول کی طرف سے عنایت حاصل ہو، یہاں تک کہ میں نے اپنا دایاں ہاتھ، جسے میں کھینچنے والا نہیں، اس ہستی کے ہاتھ میں رکھ دیا جو سزا دینے کی قدرت رکھتی ہے اور جس کی بات ہی حرفِ آخر ہے، جب میں آپ سے بات کر رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ تمہاری نسبت معلوم ہے اور تم سے باز پرس ہو گی تو آپ میرے نزدیک کچھار کے اس شیر سے زیادہ ہیبت والے تھے جس کے دانت ایک دوسرے میں پیوست ہوں اور جس کا ٹھکانا وادئ عثر میں ہو جہاں جھاڑی کے آگے جھاڑی ہو، جو صبح سویرے نکلتا ہے اور شیر کے دو بچوں کو گوشت کھلاتا ہے جن کے پاس انسانوں کا گوشت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھرا پڑا ہو، اس کے خوف سے جنگلی گدھے دبلے رہتے ہیں اور پیدل چلنے والے اس کی وادی میں نہیں چلتے، اور اس کی وادی میں ہمیشہ کوئی بھروسے والا بہادر پڑا رہتا ہے جس کے ہتھیار اور پرانے کپڑے بکھرے ہوتے ہیں اور اسے کھایا جا چکا ہوتا ہے، بیشک رسول اللہ ﷺ وہ نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اللہ کی تلواروں میں سے ایک بے نیام اور کاٹ دار تلوار ہیں، قریش کے ان جوانوں میں جن میں سے ایک کہنے والے نے بطنِ مکہ میں، جب وہ اسلام لائے، کہا: ہجرت کر جاؤ، وہ چلے گئے، اور جانے والے نہ کمزور تھے، نہ مقابلے کے وقت بے ڈھال، نہ ہتھیاروں سے خالی اور سواری پر ڈگمگانے والے، وہ اونچی ناکوں والے بہادر ہیں جو جنگ کے میدان میں حضرت داؤد علیہ السلام کی بنائی ہوئی زرہیں پہنتے ہیں، چمکدار اور کشادہ زرہیں جن کے حلقے آپس میں پیوست ہیں گویا وہ قفعاء (پودے) کے بٹے ہوئے حلقے ہیں، وہ بڑی عمر کے مضبوط اونٹوں کی طرح چلتے ہیں، جب سیاہ فام پست قد لوگ بھاگ کھڑے ہوں تو ان کی تلوار زنی ہی ان کی حفاظت کرتی ہے، جب ان کے نیزے کسی قوم کو جا لگیں تو وہ اتراتے نہیں اور جب خود زخم کھائیں تو گھبراتے نہیں، دشمن کا وار ہمیشہ ان کے سینوں پر ہوتا ہے اور موت کے گھاٹ اترنے سے وہ کبھی جی نہیں چراتے۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6620
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة الحجاج بن ذي الرقيبة وأبيه وجدّه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة الحجاج بن ذي الرقيبة وأبيه وجدّه، لكن شهرة هذه القصة والقصيدة عند أهل السير والمغازي تغني عن تطلُّب الإسناد لها، والله تعالى أعلم. وشيخ المصنف وإن كان فيه ضعف متابَعٌ.» [ترقيم الرساله 6620] [ترقيم الشركة 6541]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا في رواية المصنف وعنه البيهقي في "الدلائل" 5/ 207، والعَجَل: الطّين والحَمْأة، ولعلها كانت صفة الأرض، فإنَّ أبرق العزّاف ماءٌ بين المدينة والرَّبَذة على عشرين ميلًا منها به آبار غليظة الماء كما في "وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى" للسمهودي 4/ 6، والأبرق في اللغة: الموضع المرتفع ذو الحجارة والرمل والطين.
نوٹ / توضیح: مصنف کی روایت میں اسی طرح ہے اور انہی کے واسطے سے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" 5/ 207 میں روایت کیا ہے۔ "العَجَل" کے معنی مٹی اور کیچڑ کے ہیں۔ غالباً یہ اس زمین کی صفت تھی، کیونکہ "أبرق العزّاف" مدینہ اور ربذہ کے درمیان بیس میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے جہاں کھارے پانی کے کنویں ہیں، جیسا کہ سمہودی کی "وفاء الوفا" 4/ 6 میں مذکور ہے۔ لغت میں "الأبرق" اس بلند جگہ کو کہتے ہیں جہاں پتھر، ریت اور مٹی ملی جلی ہوں۔
وفي رواية ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2706): اثبت في غنمنا في هذا المكان.
تفصیلِ روایت: ابن ابی عاصم کی "الآحاد والمثانی" (2706) والی روایت میں یہ الفاظ ہیں: "ہماری بکریوں کے ساتھ اسی جگہ ٹھہرے رہو"۔
No matching content found
نوٹ / توضیح: یہاں کوئی متعلقہ عبارت نہیں ملی۔
(1) تحرَّف في (ص) و (م) إلى الدور، والمثبت من (ب)، وهو الصواب.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (م) میں لفظ "الدور" میں تحریف ہو گئی تھی، جبکہ نسخہ (ب) سے جو لفظ ہم نے متن میں درج کیا ہے وہی درست ہے۔
والزَّور: أعلى الصدر، وقيل: وسطه. انظر "شرح قصيدة بانت سعاد" لابن هشام النحوي ص 246 بتحقيق عبد الله الطويل.
نوٹ / توضیح: "الزَّور" سینے کے اوپری حصے کو کہتے ہیں، اور ایک قول کے مطابق یہ سینے کا درمیانی حصہ ہے۔ تفصیل کے لیے ابن ہشام نحوی کی "شرح قصیدہ بانت سعاد" ص 246 (تحقیق عبد اللہ الطویل) ملاحظہ فرمائیں۔
(1) تحرَّف في (ص) و (م) إلى: كل، والمثبت من (ب)، وهو الصواب. وهو الموافق لما عند ابن هشام ص 259.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (م) میں لفظ "کل" تحریف شدہ تھا، جبکہ نسخہ (ب) میں موجود لفظ ہی صحیح ہے اور یہی ابن ہشام (ص 259) کے ہاں بھی موجود ہے۔
(2) كذا في نسخنا الخطية: عندهما، وعند ابن هشام: عَيشُهما. أي: قُوتُهما. والخراديل: القِطَع.
نوٹ / توضیح: ہمارے خطی نسخوں میں "عندهما" لکھا ہے، جبکہ ابن ہشام کے ہاں "عیشُہما" ہے، جس کا مطلب "ان دونوں کی خوراک" ہے۔ "الخراديل" کے معنی ٹکڑوں کے ہیں۔
(3) وضع فوق الراء منها في (ص) علامة إهمال، يريد أنها راءٌ، والمعنى: أنها ضامرة البطون من الجوع. وعند ابن هشام: ضامزة، بالزاي، أي: ساكتة ساكنة. والأراجيل: جمع أَرجال، وأرجال: جمع رَجْل، ورَجُل: اسم جَمْع راجِلٍ، وهو الذي يمشي على رجليه.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) میں راء کے اوپر علامتِ اہمال لگائی گئی ہے تاکہ واضح ہو کہ یہ راء ہی ہے، اس کے معنی بھوک کی وجہ سے پیٹ کے پچک جانے کے ہیں۔
نوٹ / توضیح: ابن ہشام کے ہاں یہ لفظ زاء کے ساتھ "ضامزة" ہے، جس کے معنی خاموش اور ساکن کے ہیں۔ "الأراجيل" ارجال کی جمع ہے، ارجال رجل کی جمع ہے اور رجل "راجل" کے لیے اسمِ جمع ہے، یعنی وہ شخص جو پیدل چل رہا ہو۔
(1) تحرَّف في النسخة الخطية إلى: زالت، والتصويب من "السيرة "لابن هشام 2/ 513، و"جمهرة أشعار العرب" لأبي زيد القرشي ص 641.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخہ میں لفظ "زالت" میں تحریف ہوئی ہے، اس کی درستگی ابن ہشام کی "السیرہ" 2/ 513 اور ابوزید قرشی کی "جمہرۃ اشعار العرب" ص 641 سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده ضعيف لجهالة الحجاج بن ذي الرقيبة وأبيه وجدّه، لكن شهرة هذه القصة والقصيدة عند أهل السير والمغازي تغني عن تطلُّب الإسناد لها، والله تعالى أعلم. وشيخ المصنف وإن كان فيه ضعف متابَعٌ.
درجۂ حدیث: اس کی سند حجاج بن ذی الرقیبہ، ان کے والد اور ان کے دادا کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔
اہم نکتہ: تاہم، اہلِ سیر اور مغازی کے ہاں اس قصے اور قصیدے کی شہرت اس کے لیے سند کی تلاش سے بے نیاز کر دیتی ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف کے شیخ اگرچہ بذاتِ خود ضعیف ہیں لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 10/ 243 - 244، و "الدلائل" 5/ 207 - 209 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. مختصرًا ولم يسقه بتمامه.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام بیہقی نے "السنن" 10/ 243-244 اور "دلائل النبوۃ" 5/ 207-209 میں ابوعبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے اور اسے مکمل ذکر نہیں کیا۔
والخبر بطوله في "جزء ابن ديزيل" برواية أبي الحسن أحمد بن نيخاب الطيبي عنه برقم (15). وأخرجه مختصرًا ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2706)، وابن منده في "معرفة الصحابة" ص 292، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1249) و (5833) من طرق عن إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، به.
تفصیلِ روایت: یہ خبر پوری تفصیل کے ساتھ "جزء ابنِ ديزيل" (نمبر 15) میں ابوالحسن احمد بن نیخاب الطیبی کی روایت سے موجود ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے مختصراً ابن ابی عاصم (2706)، ابن مندہ کی "معرفۃ الصحابہ" ص 292، اور ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (1249) اور (5833) میں ابراہیم بن منذر الحزامی کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وذكر القصة بنحوها مع القصيدة محمد بن إسحاق كما سيأتي لاحقًا عند المصنف، وفيه ما يشعر أنه رواها عن عاصم بن عمر بن قتادة الأنصاري مرسلًا. وعاصم هذا ثقة عالم عارف بالمغازي، وكان ابن إسحاق يعتمد عليه كثيرًا في "مغازيه". وكذا ذكرها موسى بن عقبة الإمام الثقة -كما سيأتي لاحقًا- وكان بصيرًا بالمغازي والسيرة النبوية، وهو أول من صنف في ذلك.
اہم نکتہ: محمد بن اسحاق نے بھی یہ قصہ اور قصیدہ اسی طرح ذکر کیا ہے جیسا کہ آگے مصنف کے ہاں آئے گا، اس میں اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے اسے عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ عاصم ثقہ عالم اور مغازی کے ماہر تھے، اور ابن اسحاق اپنی "مغازی" میں ان پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ اسی طرح اسے امام ثقہ موسیٰ بن عقبہ نے بھی ذکر کیا ہے، جو مغازی اور سیرتِ نبوی کے بہت بڑے ماہر تھے اور اس فن میں سب سے پہلے تصنیف کرنے والے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6620 سے ماخوذ ہے۔