أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدِّمشقي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن المُقاتِلي (2)، حدثتني أسماء بنت واثلة بن الأسقَع قالت: كان أبي إذا صلَّى الصبحَ جلس مستقبلَ القِبْلة حتى تَطلُعَ الشمسُ، فربما كلَّمتُه في الحاجة فلا يكلِّمُني، فقلت: ما هذا؟ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "مَن صلَّى الصبحَ، ثم قرأ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ مئةَ مرّةٍ قبل أن يتكلَّمَ، فكلَّما قرأ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ غُفِرَ له ذَنْبُ سنةٍ" (3).
حافظ طلحہ بابر
اسماء بنت واثلہ بن اسقع سے روایت ہے کہ میرے والد جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو طلوعِ آفتاب تک قبلہ رو ہو کر بیٹھے رہتے، بسا اوقات میں کسی ضرورت کے تحت ان سے بات کرتی تو وہ مجھے جواب نہ دیتے، میں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے صبح کی نماز پڑھی، پھر کسی سے بات کرنے سے پہلے سو مرتبہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ پڑھی، تو ہر بار ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ پڑھنے کے بدلے اس کے ایک سال کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران حدثنا أبي، حدثنا سُلَيم بن منصور بن عمّار، حدثنا أَبي، عن معروفٍ أبي الخَطّاب، عن واثلةَ بن الأسقَع قال: لما أسلَمتُ أتيتُ النبيَّ ﷺ، فقال لي: "اذهبْ فاغتسِلْ بماءٍ وسِدْر، وأَلْقِ عنك شَعرَ الكُفْر"، ومَسَحَ رسول الله ﷺ على رأسي (1). ذكرُ عبد الله بن أبي أَوفى الأسلَمي ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں اسلام لایا تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور پانی اور بیری کے پتوں (سدر) سے غسل کرو، اور اپنے بدن سے کفر کے (زمانہ جاہلیت کے) بال مونڈ ڈالو،“ اور رسول اللہ ﷺ نے میرے سر پر اپنا دستِ مبارک پھیرا۔