حدَّثَناه الشيخ أبو محمد المُزَني، حدثنا القاضي أبو خَلِيفة، حدثنا إبراهيم ابن أبي سُوَيد الذارع، حدثنا عُمارة بن زاذانَ، حدثني مكحول قال: بَيْنا أنا مع ابن عمر إذ نَصَبَ الحجَّاجُ المَنجَنيقَ على الكعبة وقَتَلَ ابن الزُّبير، فأنكرَ عبدُ الله بنُ عمر ذلك وتكلَّم بما ساء الحجَّاجَ سماعُه، فأمر الحجاجُ بقتلِه، فضربه رجلٌ من أهل الشام ضربةً، فلما بَلَغَ الحجَّاجَ فَصَدَه عائدًا، فقال له ابنُ عمر: أنت قتلتَني والآن تَجِيئُني عائدًا؟! كَفَى بالله حَكَمًا بيني وبينَك (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6357 - عمارة ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6357 - عمارة ضعيف
حافظ طلحہ بابر
مکحول سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب حجاج نے کعبہ پر منجنیق نصب کی اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس عمل کی سخت مذمت کی اور ایسی باتیں کیں جو حجاج کو ناگوار گزریں، چنانچہ حجاج نے ان کے قتل کا خفیہ حکم دے دیا اور ایک شامی نے انہیں ضرب لگائی، جب حجاج عیادت کے لیے آیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم نے ہی مجھے قتل کیا ہے اور اب عیادت کو آئے ہو؟! میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا فیصلہ ہی کافی ہے۔“
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خيَّاط قال: قَدِمَ عبد الله بن عمر البصرةَ، وأتى فارسَ غازيًا، قَدِمَها، ومات بمكة سنةَ أربعٍ وسبعين.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بصرہ تشریف لائے اور فارس کے علاقے میں غازی بن کر گئے، آپ کی وفات مکہ مکرمہ میں 74 ہجری میں ہوئی۔