المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ وَفَاةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 6495
حدَّثَناه الشيخ أبو محمد المُزَني، حدثنا القاضي أبو خَلِيفة، حدثنا إبراهيم ابن أبي سُوَيد الذارع، حدثنا عُمارة بن زاذانَ، حدثني مكحول قال: بَيْنا أنا مع ابن عمر إذ نَصَبَ الحجَّاجُ المَنجَنيقَ على الكعبة وقَتَلَ ابن الزُّبير، فأنكرَ عبدُ الله بنُ عمر ذلك وتكلَّم بما ساء الحجَّاجَ سماعُه، فأمر الحجاجُ بقتلِه، فضربه رجلٌ من أهل الشام ضربةً، فلما بَلَغَ الحجَّاجَ فَصَدَه عائدًا، فقال له ابنُ عمر: أنت قتلتَني والآن تَجِيئُني عائدًا؟! كَفَى بالله حَكَمًا بيني وبينَك (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6357 - عمارة ضعيفحافظ طلحہ بابر
مکحول سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب حجاج نے کعبہ پر منجنیق نصب کی اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس عمل کی سخت مذمت کی اور ایسی باتیں کیں جو حجاج کو ناگوار گزریں، چنانچہ حجاج نے ان کے قتل کا خفیہ حکم دے دیا اور ایک شامی نے انہیں ضرب لگائی، جب حجاج عیادت کے لیے آیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم نے ہی مجھے قتل کیا ہے اور اب عیادت کو آئے ہو؟! میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا فیصلہ ہی کافی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن إن شاء الله. مكحول: هو الأزدي البصري.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور راوی مکحول سے مراد "مکحول الازدی البصری" ہیں۔
وأخرجه الطبراني (13040) عن أبي خليفة الفضل بن الحباب، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے (13040) میں ابو خلیفہ الفضل بن الحباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: اس سے ماقبل والی روایت کو بھی دیکھیں۔
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور راوی مکحول سے مراد "مکحول الازدی البصری" ہیں۔
وأخرجه الطبراني (13040) عن أبي خليفة الفضل بن الحباب، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے (13040) میں ابو خلیفہ الفضل بن الحباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: اس سے ماقبل والی روایت کو بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6495 سے ماخوذ ہے۔