کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نبی کریم ﷺ کے احتجام کے بعد خون پینا
أخبرني إبراهيم بن عِصْمَة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا الهُنَيد بن القاسم بن عبد الرحمن بن ماعِزٍ قال: سمعتُ عامرَ بنَ عبد الله بن الزُّبير يحدِّث، أنَّ أباه حدَّثه: أنه أَتى النبيَّ ﷺ وهو يَحتجِمُ، فلما فَرَغَ من حَجامتِه (2) قال: "يا عبدَ الله، اذهَبْ بهذا الدم فأَهرِقْه حيثُ لا يراكَ أحدٌ"، فلما بَرَرْتُ عن رسولَ الله ﷺ عَمَدت إلى الدم فحَسَوتُه، فلما رجعتُ إلى النبي ﷺ قال: "ما صنعتَ يا عبد الله؟ " قال: جعلتُه في مكانٍ ظَنَنتُ أنه خافٍ على الناس، قال: "فلعلَّك شَرِبتَه؟ " قلت: نعم، قال: "ومَن أمَرَك أن تشربَ الدمَ؟ وَيلٌ لك من الناس، ووَيلٌ للناسِ منك" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6343 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6343 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ پچھنے لگوا (حجامہ کروا) رہے تھے، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے عبداللہ! اس خون کو لے جاؤ اور اسے ایسی جگہ بہا دو جہاں تمہیں کوئی دیکھ نہ سکے،“ پس جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے نکلا تو میں نے اس خون کا قصد کیا اور اسے پی لیا، جب میں واپس آیا تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے عبداللہ! تم نے کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے اسے ایسی جگہ چھپا دیا ہے جہاں میرا خیال ہے کہ وہ لوگوں سے پوشیدہ رہے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم نے اسے پی لیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تمہیں خون پینے کا کس نے حکم دیا تھا؟ تمہاری وجہ سے لوگوں کے لیے ہلاکت (آزمائش) ہے اور لوگوں کی وجہ سے تمہارے لیے ہلاکت ہے۔“
حدثنا الشيخ أبو محمد المُزَني، حدثنا جعفر بن محمد الفِرْيابي، حدثنا محمد بن بحر الهُجَيمي، حدثنا سعيد بن سالم القَدَّاح، عن ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عبد الله بن الزُّبير قال: سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول: "من قرأَ القرآنَ ظاهرًا أو نَظَرًا، أعطي شجرةً في الجنة لو أنَّ غُرابًا فرَّخَ تحت ورقةٍ منها، ثم طار ذلك الفرخُ، أدركه الهَرَمُ قبل أن يَقطَعَ تلك الورقة" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6344 - محمد بن بحر الهجيمي منكر الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6344 - محمد بن بحر الهجيمي منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے قرآن کی تلاوت کی، خواہ وہ زبانی ہو یا دیکھ کر، اسے جنت میں ایک ایسا درخت عطا کیا جائے گا کہ اگر کوئی کوا اس کے ایک پتے کے نیچے بچہ نکالے، پھر وہ بچہ اڑنا شروع کرے تو اس پتے کی مسافت ختم کرنے سے پہلے وہ بچہ بوڑھا ہو جائے گا۔“