کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: حجاج کا سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی توہین کرنا
قال: وحدثنا هشام، حدثنا موسي، حدثنا ابن عُليَّة، عن ابن أبي نَجِيح: أنَّ ابن الزُّبير لما قُتِل نُقِلَت خزائنُه إلى عبد الملك بن مروان ثلاثَ سنين (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی نجیح سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما شہید کر دیے گئے تو ان کے خزانے تین سال تک عبدالملک بن مروان کی طرف منتقل کیے جاتے رہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6478
درجۂ حدیث محدثین: معضل لا يصح
تخریج حدیث «معضل لا يصح، فإنَّ ابن أبي نجيح -وهو عبد الله- لم يدرك زمن عبد الله ابن الزبير. هشام: هو ابن علي السِّيرافي، وموسى: هو ابن إسماعيل التبوذكي، وابن علية: هو إسماعيل بن إبراهيم.» [ترقيم الرساله 6478] [ترقيم الشركة 6402/1]
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا الأسوَد بن شَيْبان، أخبرنا أبو نَوفَل بن أبي عَقرَب العُرَيجي قال: صَلَبَ الحجّاجُ بنُ يوسف عبدَ الله بنَ الزُّبير على عَقَبة المدينة ليُري (2) ذلك قريشًا، فلما أنْ نَفَروا جعلوا (3) يمرُّون ولا يَقِفون عليه، حتى مرَّ عبدُ الله بن عمر ابن الخطّاب فوقف عليه، فقال: السلامُ عليك أبا حُبَيب - قالها ثلاثَ مرات - لقد نهيتُك عن ذا- قالها ثلاث مرات - لقد كنتَ صوّامًا قوامًا، تَصِلُ الرَّحِمَ. قال: فبَلَغَ الحجَّاجَ موقفُ عبد الله بن عمر، فاستَنزَلَه فرَمَى به في قبور اليهود، وبَعَثَ إلى أسماءَ بنت أبي بكر أن تأتيَه، وقد ذهبَ بصرها، فأبَتْ، فأرسل إليها: لَتَجيئِنَّ أو لأ بعثنَّ إليكِ من يَسحبُكِ بقُرونِك، قالت: واللهِ لا آتيكَ حتى تبعثَ إِليَّ من يَسحَبُني بقُروني، فأتى رسولُه فأخبره، فقال: يا غلامُ، ناوِلْني سِبْتِيَّتيَّ، فناوَله نَعلَيه، فقام وهو يَتوقَّد حتى أتاها، فقال لها: كيف رأيتِ الله صَنَعَ بعدوِّ الله؟ قالت: رأيتُكَ أَفَسَدْتَ عليه دُنْياه، وأفسَدَ عليك آخِرَتك، وأمَّا ما كنتَ تُعيِّرُه بذات النِّطاقَينِ، أَجَلْ لقد كان لي نِطاقانِ: نطاقٌ أُغطِّي به طعامَ رسولَ الله ﷺ من النَّمل، ونِطاقي الآخر لا بُدَّ للنساء منه، وقد سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إِنَّ فِي ثَقيفٍ كذابًا ومُبِيرًا"، فأما الكذابُ فقد رأَيناه (4)، وأما المُبِيرُ فأنت ذاكَ، قال: فخرج (1). وقد صحَّت الرواياتُ بسماع عبد الله بن الزُّبير من رسول الله ﷺ، ودخولِه عليه وخروجِه من عنده وهو ابنُ ثمانِ سنين، وأنا ذاكرٌ بمشيئة الله تعالى في هذا الموضع أخباره التي تدلُّ على ذلك، فإنَّ المخرَّجَ في مُسندِه عن رسول الله ﷺ نيِّفٌ وسبعون حديثًا.
حافظ طلحہ بابر
ابو نوفل بن ابی عقرب عریجی سے روایت ہے کہ حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مدینہ کی گھاٹی (عقبہ) پر سولی دے دی تاکہ قریش کے لوگ اسے دیکھ سکیں، چنانچہ جب لوگ وہاں سے گزرتے تو رکتے نہیں تھے، یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ رک گئے اور تین مرتبہ فرمایا: ”اے ابوحبیب! تم پر سلامتی ہو،“ پھر تین مرتبہ فرمایا: ”میں نے تمہیں اس سے روکا تھا،“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم بہت زیادہ روزہ رکھنے والے، راتوں کو قیام کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔“ راوی کہتے ہیں کہ جب حجاج کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے وہاں کھڑے ہونے کی اطلاع ملی تو اس نے ان کا جسدِ مبارک وہاں سے اتروا کر یہودیوں کے قبرستان میں پھینکوا دیا، پھر اس نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ اس کے پاس آئیں، جبکہ وہ بینائی کھو چکی تھیں، انہوں نے آنے سے انکار کر دیا، تو حجاج نے پیغام بھیجا کہ ”تم ضرور آؤ گی ورنہ میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جو تمہیں تمہاری چوٹیوں سے پکڑ کر گھسیٹے گا،“ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تیرے پاس ہرگز نہیں آؤں گی یہاں تک کہ تو کسی ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے میری چوٹیوں سے گھسیٹتا ہوا تیرے پاس لے جائے۔“ جب اس کے قاصد نے جا کر اسے یہ خبر دی تو اس نے کہا: ”اے لڑکے! میرے چمڑے کے جوتے لاؤ،“ اس نے جوتے پہنے اور غصے میں بھرا ہوا ان کے پاس پہنچا اور کہنے لگا: ”تم نے دیکھا کہ اللہ نے اللہ کے دشمن کے ساتھ کیا سلوک کیا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے دیکھا کہ تو نے اس کی دنیا خراب کر دی اور اس نے تیری آخرت برباد کر دی، اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تو انہیں ”ذات النطاقین“ (دو پٹکوں والی کا بیٹا) کہہ کر طعنہ دیتا تھا، تو ہاں! میرے پاس دو ہی پٹکے تھے: ایک وہ جس سے میں رسول اللہ ﷺ کے کھانے کو چیونٹیوں سے بچانے کے لیے ڈھانپتی تھی اور دوسرا وہ جس کی عورتوں کو ضرورت ہوتی ہے، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قبیلہ ثقیف میں ایک بہت بڑا جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا (خونخوار ظالم) پیدا ہوگا،“ پس جھوٹے کو تو ہم دیکھ چکے اور ہلاک کرنے والے تم ہی ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر حجاج وہاں سے نکل گیا۔
یہ روایات صحیح ثابت ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے احادیث سنی ہیں اور وہ آٹھ سال کی عمر میں آپ ﷺ کے پاس آتے جاتے تھے، اور میں ان کے وہ احوال ذکر کروں گا جو اس پر دلالت کرتے ہیں، کیونکہ ان کی مسند میں رسول اللہ ﷺ سے مروی احادیث کی تعداد ستر سے کچھ زائد ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6479
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح علي بن عبد العزيز: هو أبو الحسن البغوي
تخریج حدیث «إسناده صحيح علي بن عبد العزيز: هو أبو الحسن البغوي، ومسلم بن إبراهيم: هو الفراهيدي البصري.» [ترقيم الرساله 6479] [ترقيم الشركة 6403]