حدیث نمبر: 6471
وأخبرني أبو الحسين، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو عاصم، عن عمر بن قيس قال: كان لابن الزُّبير مئةُ غلام، يتكلَّمُ كلُّ غلام منهم بلُغةٍ أخرى، فكان ابن الزُّبير يُكلِّم كلَّ واحد منهم بلُغَته، وكنتُ إذا نَظَرتُ إليه في أمر دُنْياه قلت: هذا رجل لم يُردِ الله طَرْفةَ عينٍ، وإذا نظرتُ إليه في أمر آخرتِه، قلت: هذا رجل لم يُرِدِ الدنيا طَرْفةَ عينٍ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6335 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

عمر بن قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سو غلام تھے اور ہر غلام الگ زبان بولتا تھا، ابن زبیر ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اسی کی زبان میں گفتگو فرماتے تھے، جب میں ان کے دنیاوی معاملات کو دیکھتا تو کہتا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی آخرت کا ارادہ نہیں کیا، اور جب میں ان کے اخروی معاملات کو دیکھتا تو کہتا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی دنیا کا ارادہ نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6471
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6471] [ترقيم الشركة 6396] [ترقيم العلميه 6335]