کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کا صدقہ اور اس کی قبولیت
حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ، حدثنا عبيد الله بن محمد اليَزِيدي، حدثنا أبو حسان الزِّيادي، حدثنا هشام بن محمد بن السائب الكلبي قال: عوف بن مالك الأشجعيُّ، وَجَّهَ إليه رسولُ الله ﷺ حين نَزَلت عليه الصدقةُ أبا بكر الصِّدّيق، قال أبو بكر لعوفٍ: إنَّ الله تعالى قد أَنزلَ الصدقةَ، قال: وما الصدقةُ؟ قال: من كلِّ أربعين ناقةً ناقةٌ، قال: فاعتَرِضُها فخُذْ ناقةً، فاعترَضَها أبو بكر فأخذ ناقةً لرَحْلِه، فقال عوفٌ: إنها لرَحْلي، فقال له أبو بكر: إنها لَأعظمُ لأَجْرِك، قال: فسُقْ حِقَّها معها، فساقها أبو بكر وحِقَّها إلى رسول الله ﷺ، فأخبره بصنيع عوف وقوله، فقال رسول الله ﷺ: "ارجِعْ إليه فأخبِرْه أنَّ الله قد بَنَي له بيتًا في الجنة" (1).
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن محمد کلبی بیان کرتے ہیں کہ جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، ابوبکر نے عوف سے کہا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے صدقہ (زکوٰۃ) کا حکم نازل فرمایا ہے،“ انہوں نے پوچھا: ”صدقہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہر چالیس اونٹوں میں سے ایک اونٹ،“ عوف نے کہا: ”آپ ان اونٹوں میں سے اپنی پسند کا کوئی بھی اونٹ لے لیں،“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ کا انتخاب کیا جو ان کے کجاوے (سفر) کے لیے موزوں تھا، عوف نے کہا: ”یہ تو میرے کجاوے والا اونٹ ہے (یعنی نہایت قیمتی ہے)“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ تمہارے اجر کی زیادتی کے لیے زیادہ بہتر ہے،“ عوف نے کہا: ”تو پھر اس کا بچہ بھی ساتھ لے جائیں،“ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ وہ اونٹ اور اس کا بچہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے اور عوف کا سارا طرزِ عمل بیان کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جاؤ اور انہیں خوشخبری سنا دو کہ اللہ نے ان کے لیے جنت میں ایک محل تعمیر کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6458
درجۂ حدیث محدثین: إسناده معضلٌ واهٍ
تخریج حدیث «إسناده معضلٌ واهٍ، هشام بن محمد الكلبي متروك، ولم نقف عليه عند غير المصنف.» [ترقيم الرساله 6458] [ترقيم الشركة 6383]
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: عوفُ بن مالكٍ الأشجعيُّ، وشهد عوفٌ خيبرَ مع المسلمين، وكانت معه رايةُ أشجَعَ يومَ فَتْح مكة، ثم تحوَّل عوفٌ إلى الشام في خلافة أبي بكر فنزل حمصَ، وبقيَ إلى أول خلافة عبد الملك بن مروان، ثم مات سنة ثلاث وسبعين، وكان يُكْنى أبا عَمْرو.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک تھے اور فتح مکہ کے دن قبیلہ اشجع کا جھنڈا ان کے پاس تھا، پھر وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شام منتقل ہو گئے اور حمص میں سکونت اختیار کی، وہ عبدالملک بن مروان کی خلافت کے آغاز تک حیات رہے اور سن 73 ہجری میں وفات پائی، ان کی کنیت ابو عمرو تھی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6459
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6459] [ترقيم الشركة 6384]