حدیث نمبر: 6460
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا هلال ابن العلاء الرَّقّي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، حدثني إسحاق بن راشد، عن الزُّهْري، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطَّاب، عن عوف بن مالك الأشجعيّ قال: دخلتُ على رسولَ الله ﷺ في غزوة تَبُوك في آخر السَّحَر وهو في فُسْطاطِه، فسلَّمتُ عليه وقلت: أَدخُلُ يا رسول الله؟ فقال: "ادخُلْ"، فقلت: كُلِّي؟ فقال: "كُلُّك"، ثم قال ﷺ: "ستٌّ قبل الساعة: أَوَّلَهُنَّ موتُ نبيِّكم، قل: إحْدَى قلت: إحدى "والثانيةُ فتحُ بيتِ المقدِس، قل اثنَينْ" قلت: اثنين، ثم قال: "والثالثة مُوتَانٌ يأخذكم كقُعَاصِ الغَنَم، قل: ثلاثًا" قلت: ثلاثًا، قال: "والرابعةُ يَفِيضُ فيكم المالُ حتى إنَّ الرجلَ لَيُعطَى مئةَ دينار فيَظَلُّ يَتَسَخَّطُها، قل: أربعًا" قلت: أربعًا، "والخامسةُ فتنةٌ تكون فيكم، قَلَّما يبقى فيكم بيتُ وَبَرٍ ولا مَدَرٍ إِلَّا دَخلَتْه، قل: خمسًا" قلت: خمسًا، "والسادسة هُدْنةٌ تكون بينكم وبين بني الأصفرِ، فيَجتمِعون لكم حَمْلَ امرأةٍ، ثم يَغدِرون بكم فيُقبِلون في ثمانين رايةً، كلَّ رايةٍ اثنا عشرَ ألفاً" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6324 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، اس وقت سحری کا آخری وقت تھا اور آپ ﷺ اپنے خیمے میں تشریف فرما تھے، میں نے سلام کیا اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں اندر آ جاؤں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اندر آ جاؤ،“ میں نے پوچھا: ”کیا میں پورا (اندر) آ جاؤں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں پورے آ جاؤ،“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ظاہر ہوں گی: پہلی تمہارے نبی کی وفات، کہو ایک“ میں نے کہا: ایک، ”دوسری بیت المقدس کی فتح، کہو دو“ میں نے کہا: دو، ”تیسری ایسی طاعون کی بیماری جو تمہیں اس طرح اچانک ہلاک کرے گی جیسے بھیڑوں کو حلق کی بیماری (قعاص) ہلاک کر دیتی ہے، کہو تین“ میں نے کہا: تین، ”چوتھی یہ کہ تم میں مال کی اتنی فراوانی ہو جائے گی کہ ایک شخص کو سو دینار بھی دیے جائیں گے تو وہ اس پر ناراض ہی رہے گا (یعنی اسے کم سمجھے گا)، کہو چار“ میں نے کہا: چار، ”پانچویں ایسا فتنہ جو تم میں برپا ہوگا اور عرب کا کوئی خیمہ یا پکا گھر ایسا نہیں ہوگا جہاں وہ داخل نہ ہو جائے، کہو پانچ“ میں نے کہا: پانچ، ”اور چھٹی ایک صلح جو تمہارے اور بنو اصفر (رومیوں) کے درمیان ہوگی، وہ تمہارے خلاف نو ماہ تک لشکر جمع کریں گے، پھر وہ تم سے غداری کریں گے اور اسیّ جھنڈوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6460
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد فيه لين من أجل العلاء بن هلال والد هلال، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 6460] [ترقيم الشركة 6385] [ترقيم العلميه 6324]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد فيه لين من أجل العلاء بن هلال والد هلال، وقد توبع.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ اس سند میں العلاء بن ہلال (ہلال کے والد) کی وجہ سے تھوڑی کمزوری (لین) ہے، لیکن ان کی تائید (متابعت) موجود ہے۔
فقد أخرج أوله أحمد 39 / (23979) عن زكريا بن عدي، عن عبيد الله بن عمرو الرقي، بهذا الإسناد إلَّا أنه لم يذكر فيه الزهري. وانظر تمام تخريجه هناك.
حوالہ / مصدر: امام احمد (39/ 23979) نے اس کا ابتدائی حصہ زکریا بن عدی کے طریق سے، انہوں نے عبید اللہ بن عمرو الرقی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، سوائے اس کے کہ انہوں نے اس میں "زہری" کا ذکر نہیں کیا۔ مکمل تخریج کے لیے مذکورہ مقام دیکھیں۔
وأخرجه بطوله أحمد أيضًا (23971) من طريق هشام بن يوسف، و (23985) من طريق جبير ابن نفير، و (23996) من طريق محمد بن أبي محمد، ثلاثتهم عن عوف بن مالك.
متابعات و شواہد: امام احمد نے اسے تفصیلاً (23971) میں ہشام بن یوسف کے طریق سے، (23985) میں جبیر بن نفیر سے اور (23996) میں محمد بن ابی محمد سے روایت کیا ہے؛ یہ تینوں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں۔
وسيأتي عند المصنف برقم (8500) من طريق أبي إدريس الخولاني، و (8508) من طريق الشعبي، كلاهما عن عوف بن مالك. وانظر ما سيأتي أيضًا برقم (8868) بسياقة أخرى من طريق إسحاق بن عبد الله عن عوف.
اہم نکتہ: یہ روایت مصنف کے ہاں آگے چل کر رقم (8500) پر ابو ادریس الخولانی کے طریق سے اور رقم (8508) پر شعبی کے طریق سے آئے گی۔ نیز رقم (8868) پر اسحاق بن عبداللہ کے واسطے سے ایک اور سیاق میں مروی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6460 سے ماخوذ ہے۔