کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے چار سو احادیث روایت کی گئیں
أخبرني أبو يحيى محمد بن عبد الله بن محمد بن عبد الله بن يزيد المقرئ الإمام بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا هُشَيم، حدثنا أبو حمزة عمران بن [أبي] (2) عطاء قال: شهدتُ وفاة ابن عبّاس بالطائف، فَوَلِيه محمدُ ابنُ الحنفيّة وكبَّر عليه أربعًا، وأدخله القبرَ من قِبَل رِجلَيه، وضَرَبَ عليه البناءَ ثلاثًا، والذي حَفِظْنا عنه نحوٌ من أربع مئة حديثٍ (3).
حافظ طلحہ بابر
ابو حمزہ عمران بن ابی عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں طائف میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وفات کے وقت موجود تھا، محمد بن حنفیہ نے ان کے تمام انتظامات سنبھالے اور ان کی نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں کہیں، پھر انہیں پاؤں کی جانب سے قبر میں اتارا اور ان کی قبر پر مٹی ڈال کر تین بار اسے برابر کیا، اور ان سے ہمیں جو احادیث یاد ہیں ان کی تعداد تقریباً چار سو ہے۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا إبراهيم ابن المنذر الحِزَامي قال: قال ابنُ واقدٍ: حدثنا عمرُ بن عُقْبة، قال: سمعت شُعبة مولى ابن عبّاس يقول: مات ابنُ عبّاس سنةَ ثمان وستين بالطائف وهو ابنُ خمسٍ وسبعينَ، وكان يصفِّرُ لحيته (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وفات سن 68 ہجری میں طائف کے مقام پر ہوئی جبکہ ان کی عمر 75 برس تھی، اور وہ اپنی داڑھی پر زرد خضاب لگاتے تھے۔
قال إبراهيم بن المنذر: قال ابن واقد وحدثنا خالد بن القاسم (2)، قال: سمعت شُعبة مولى ابن عبّاس يقول: سمعت ابن عبّاس يقول: وُلِدتُ قبلَ الهجرة ونحن في الشِّعْب، فتُوفَّى النبي ﷺ وأنا ابنُ ثلاثَ عشرةَ. قال: وتُوفِّي ابن عبّاس سنةَ ثمانٍ وسبعين وهو ابنُ إحدى وثمانين سنةً.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری پیدائش ہجرت سے پہلے اس وقت ہوئی جب ہم شعبِ ابی طالب میں محصور تھے، اور جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا تو میں تیرہ سال کا تھا۔“ راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وفات سن 78 ہجری میں ہوئی جبکہ ان کی عمر 81 برس تھی۔
أخبرني (1) محمد بن إبراهيم الهاشمي، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عبَّاد بن بشير، حدثنا علي بن بَذِيمةَ، عن مجاهد قال: قال يزيد بن عُتْبة بن أبي لَهَب يَذكُر السَّحابَ التي سَقَت قبرَ ابن عبّاس: صبَّت ثلاثًا سماءُ الله رحمتَها … بالماءِ مرَّت على قبرِ ابنِ عبّاس قد كان يخبرُنا هذا ونَعلَمُهُ … علمَ اليقينِ فمِن واعٍ ومِن ناسِي أنَّ السماءَ يُروِّي القبرَ رحمتَهُ … هذا لَعَمْري أمرٌ في يدِ الناسِ لو كان للقوم رأيٌ يُعصَمون بهِ … عند الخُطوبِ رَمَوكُم بابنِ عبّاسِ للهِ درُّ أبيهِ أيُّما رجلٍ … هل مِثلُه عند فَصْلِ الخَطْبِ في الناسِ لكنْ رَمَوكُم بشيخٍ من ذَوِي يَمَنٍ … لم يَدْرِ ما ضربُ أخماسٍ لأسداسِ (2)
حافظ طلحہ بابر
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ یزید بن عتبہ بن ابی لہب نے ان بادلوں کا ذکر کرتے ہوئے اشعار کہے جنہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قبر کو سیراب کیا تھا: ”آسمان نے اپنی رحمت کا مینہ تین بار برسایا، وہ پانی ابن عباس کی قبر پر بہہ نکلا؛ وہ ہمیں یہ بتایا کرتے تھے اور ہم اسے علمِ یقین کے ساتھ جانتے تھے، چاہے کوئی اسے یاد رکھنے والا ہو یا بھول جانے والا؛ کہ بے شک آسمان بارانِ رحمت سے قبر کو سیراب کرتا ہے، میری زندگی کی قسم! یہ معاملہ تو لوگوں کے سامنے ہے؛ اگر ان لوگوں کے پاس ایسی رائے ہوتی جو انہیں مصیبتوں کے وقت بچا سکتی تو وہ تمہاری طرف ابن عباس کو ہی بھیجتے؛ ان کے والد کیا ہی خوب شخص تھے، کیا لوگوں میں نزاع و فیصلے کے وقت ان جیسا کوئی اور ہے؟ لیکن ان لوگوں نے تمہارے مقابلے میں یمن کے ایک ایسے بوڑھے کو لا کھڑا کیا جو پانچ اور چھ کے جوڑ توڑ کی بھی سمجھ نہیں رکھتا۔“