کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سترہ غزوات میں شرکت کی
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا شُعبة، عن أبي إسحاق، قال: خرج الناسُ يَستَسقُون وفيهم زيدُ بن أرقمَ، ما بيني وبينَه إلَّا رجلٌ، فقلت له: يا أبا عَمرو، كم غَزَا النبيُّ ﷺ؟ قال: تسعَ عشرةَ، قلت: فأنت كم غزوتَ معه؟ قال: سبعَ عشرةَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6271 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ لوگ نمازِ استسقاء کے لیے نکلے اور ان میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، میرے اور ان کے درمیان صرف ایک آدمی کا فاصلہ تھا، میں نے ان سے پوچھا: ”اے ابو عمرو! نبی کریم ﷺ نے کتنے غزوات فرمائے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”انیس،“ میں نے پوچھا: ”آپ خود آپ ﷺ کے ہمراہ کتنے غزوات میں شریک رہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”سترہ۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6402
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 6402] [ترقيم الشركة 6330] [ترقيم العلميه 6271]
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا كامل أبو العلاء قال: سمعت حبيب بن أبي ثابت يُخبِر عن يحيى بن جَعْدة، عن زيد بن أرقم قال: خرجْنا مع رسول الله ﷺ حتى انتَهيْنا إلى غَديرِ خُمٍّ، فأَمَرَ بدَوْحٍ، فكُسِحَ في يومٍ ما أَتى علينا يوم كان أشدَّ حرًّا منه، فحَمِدَ اللهَ وأثنى عليه، وقال: "يا أيها الناسُ، إنه لم يُبعَثْ نبيٌّ قطُّ إِلَّا عاشَ نصفَ ما عاشَ الذي كان قبلَه، وإني أُوشِكُ أن أُدْعَى فأُجيبَ، وإني تاركٌ فيكم ما لن تَضِلُّوا بعدَه: كتابَ الله ﷿"، ثم قام فأَخذ بيد عليٍّ فقال: "يا أيها الناسُ، مَن أَولى بكم من أنفسِكم؟ " قالوا: الله ورسولُه أعلم، قال: "مَن كنتُ مولاهُ فعليٌّ مولاهُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ عبد الله بن عبّاس بن عبد المطَّلب ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6272 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم غدیرِ خم کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے درختوں کے سائے میں جگہ صاف کرنے کا حکم دیا، اس دن اس قدر شدید گرمی تھی کہ ہمیں کبھی اس سے زیادہ سخت گرم دن کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، پھر آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”اے لوگو! کوئی ایسا نبی مبعوث نہیں ہوا جس کی عمر اس سے پہلے گزرنے والے نبی کی عمر کے آدھے کے برابر نہ رہی ہو، اور مجھے گمان ہے کہ عنقریب مجھے (رب کی طرف سے) بلاوا آئے گا اور میں اسے قبول کر لوں گا، میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ اللہ عزوجل کی کتاب ہے،“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر فرمایا: ”اے لوگو! تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق کس کا ہے؟“ سب نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6403
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون قصة عيش كل نبي نصف ما عاش الذي كان قبله
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة عيش كل نبي نصف ما عاش الذي كان قبله، فقد تفرَّد بها في هذا الحديث كامل بن العلاء أبو العلاء، وهو ليس بذاك القوي، وله ما ينكر في بعض رواياته كما قال ابن عدي في "الكامل". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 6403] [ترقيم الشركة 6331] [ترقيم العلميه 6272]