حدیث نمبر: 6403
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا كامل أبو العلاء قال: سمعت حبيب بن أبي ثابت يُخبِر عن يحيى بن جَعْدة، عن زيد بن أرقم قال: خرجْنا مع رسول الله ﷺ حتى انتَهيْنا إلى غَديرِ خُمٍّ، فأَمَرَ بدَوْحٍ، فكُسِحَ في يومٍ ما أَتى علينا يوم كان أشدَّ حرًّا منه، فحَمِدَ اللهَ وأثنى عليه، وقال: "يا أيها الناسُ، إنه لم يُبعَثْ نبيٌّ قطُّ إِلَّا عاشَ نصفَ ما عاشَ الذي كان قبلَه، وإني أُوشِكُ أن أُدْعَى فأُجيبَ، وإني تاركٌ فيكم ما لن تَضِلُّوا بعدَه: كتابَ الله ﷿"، ثم قام فأَخذ بيد عليٍّ فقال: "يا أيها الناسُ، مَن أَولى بكم من أنفسِكم؟ " قالوا: الله ورسولُه أعلم، قال: "مَن كنتُ مولاهُ فعليٌّ مولاهُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ عبد الله بن عبّاس بن عبد المطَّلب ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6272 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم غدیرِ خم کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے درختوں کے سائے میں جگہ صاف کرنے کا حکم دیا، اس دن اس قدر شدید گرمی تھی کہ ہمیں کبھی اس سے زیادہ سخت گرم دن کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، پھر آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”اے لوگو! کوئی ایسا نبی مبعوث نہیں ہوا جس کی عمر اس سے پہلے گزرنے والے نبی کی عمر کے آدھے کے برابر نہ رہی ہو، اور مجھے گمان ہے کہ عنقریب مجھے (رب کی طرف سے) بلاوا آئے گا اور میں اسے قبول کر لوں گا، میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ اللہ عزوجل کی کتاب ہے،“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر فرمایا: ”اے لوگو! تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق کس کا ہے؟“ سب نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6403
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون قصة عيش كل نبي نصف ما عاش الذي كان قبله
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة عيش كل نبي نصف ما عاش الذي كان قبله، فقد تفرَّد بها في هذا الحديث كامل بن العلاء أبو العلاء، وهو ليس بذاك القوي، وله ما ينكر في بعض رواياته كما قال ابن عدي في "الكامل". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 6403] [ترقيم الشركة 6331] [ترقيم العلميه 6272]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح دون قصة عيش كل نبي نصف ما عاش الذي كان قبله، فقد تفرَّد بها في هذا الحديث كامل بن العلاء أبو العلاء، وهو ليس بذاك القوي، وله ما ينكر في بعض رواياته كما قال ابن عدي في "الكامل". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے سوائے اس قصے کے کہ "ہر نبی اپنے سے پہلے والے نبی کی آدھی عمر پاتا ہے"۔
فنی نکتہ / علّت: اس ٹکڑے کو نقل کرنے میں کامل بن العلاء (ابو العلاء) تنہا ہیں، اور وہ اتنے قوی راوی نہیں ہیں؛ ابن عدی نے "الکامل" میں فرمایا ہے کہ ان کی بعض روایات منکر ہوتی ہیں۔
نوٹ / توضیح: ابو نعیم سے مراد "الفضل بن دُکین" ہیں۔
وأخرجه الطبراني (4986) عن علي بن عبد العزيز البغوي، عن أبي نعيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے (4986) میں علی بن عبد العزیز البغوی عن ابو نعیم کی سند سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف حديث زيد بن أرقم هذا بنحوه -دون قصة عيش النبي ﷺ عند المصنف برقم (4627) من طريق سليمان الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي الطفيل عن زيد. فانظر تمام تخريجه هناك.
حوالہ / مصدر: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث (عمر والے قصے کے بغیر) پہلے مصنف کے ہاں نمبر (4627) پر سلیمان الاعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن ابی الطفیل کی سند سے گزر چکی ہے، مکمل تخریج وہیں ملاحظہ کریں۔
ويشهد لحديث كامل أبي العلاء جميعه حديث حذيفة بن أُسيد عند الطبراني (3052)، لكن في إسناده زيد بن الحسن الأنماطي قال فيه أبو حاتم الرازي: منكر الحديث، وضعفه الحافظ ابن حجر في "التقريب".
متابعات و شواہد: کامل ابو العلاء کی اس پوری حدیث کا شاہد حضرت حذیفہ بن اسید کی حدیث ہے جو طبرانی (3052) میں ہے، فنی نکتہ / علّت: لیکن اس کی سند میں زید بن الحسن الانماطی ہے جس کے بارے میں ابو حاتم رازی نے "منکر الحدیث" کہا ہے اور حافظ ابن حجر نے "التقریب" میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6403 سے ماخوذ ہے۔