کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کا ذکر
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خليفة بن خَيَّاط قال: أبو واقدٍ اللَّيثي اسمه الحارثُ بن عوف بن أَسِيد بن جابر بن عبدِ مَنَاة بن شِجْع بن عامر بن لَيْث.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ ابو واقد لیثی کا نام حارث بن عوف بن اسید بن جابر بن عبد مناہ بن شجع بن عامر بن لیث ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6394
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6394] [ترقيم الشركة 6323]
فحدَّثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: أبو واقدٍ الحارثُ بن مالك.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ابو واقد حارث بن مالک ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6395
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6395] [ترقيم الشركة 6324]
وأخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي قال: سمعت سعيدَ ابن كَثير بن عُفَير يقول: أبو واقدٍ اللَّيثي الحارث بن عوف بن الحارث بن أَسِيد بن جابر بن عَوِيرة بن عبد مَنَاة بن شِجْع بن عامر، وكان قديمَ الإسلام، وكان معه لواءُ بني لَيْثٍ وضَمْرةً وسعدٍ بني بكر يومَ الفَتْح، وبقي أبو واقد بعدَ رسول الله ﷺ زمانًا ثم خرج إلى مكة فجاوَرَ بها سنةً ومات بها.
حافظ طلحہ بابر
سعید بن کثیر بن عفیر بیان کرتے ہیں کہ ابو واقد لیثی کا نام حارث بن عوف بن حارث بن اسید بن جابر بن عویرہ بن عبد مناہ بن شجع بن عامر ہے، وہ قدیم الاسلام صحابی تھے، فتح مکہ کے دن بنو لیث، ضمرہ اور بنو سعد بن بکر کا جھنڈا ان کے پاس تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ایک طویل مدت تک زندہ رہے پھر مکہ چلے گئے اور ایک سال وہاں قیام کے بعد وہیں وفات پائی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6396
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6396] [ترقيم الشركة 6324/1]
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا ابن جُرَيج، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن نافع بن سَرْجِسَ قال: عُدْنا أبا واقدٍ الليثيَّ في مرضِه الذي مات فيه، ومات فدفَنّاه بمكة في مَقبرة المهاجرين بفَخٍّ. وإنما سُمِّيت مقبرةَ المهاجرين، لأنه دُفِنَ فيها مَن مات ممَّن كان هاجَرَ إلى المدينة ثم حجَّ وجاوَرَ فمات بمكة، فكان يُدفَن في هذه المقبرة، منهم أبو واقدٍ اللَّيثي وعبد الله ابن عمر وغيرُهما، ومات أبو واقدٍ الليثي سنةَ ثماني وستين وهو ابن خمس وثمانين سنةً (1).
حافظ طلحہ بابر
نافع بن سرجس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابو واقد لیثی کی ان کے مرضِ الموت میں عیادت کی، جب ان کی وفات ہوئی تو ہم نے انہیں مکہ میں فخ کے مقام پر مہاجرین کے قبرستان میں دفن کیا، اسے مہاجرین کا قبرستان اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں ان لوگوں کو دفن کیا جاتا تھا جنہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی اور پھر حج یا قیام کی غرض سے مکہ آئے اور وہیں وفات پا گئے، ان میں ابو واقد لیثی اور عبداللہ بن عمر وغیرہ شامل ہیں، ابو واقد لیثی کی وفات سن 68 ہجری میں ہوئی جبکہ ان کی عمر 85 برس تھی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6397
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6397] [ترقيم الشركة 6325]
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثني أبي، حدثنا هشام بن عمّار، حدثنا عبد الله بن يزيد البَكْري، حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني عمِّي موسى بن طلحة، حدثني أبو واقدٍ اللَّيثي قال: كنت جالسًا عند رسول الله ﷺ تَمسُّ رُكْبتي ركبته، فأتاه آتٍ فالتقَمَ أُذُنَه، فتغيَّر وجهُ رسول الله ﷺ وثارَ الدمُ إلى أساريرِه ﷺ، ثم قال: "هذا رسولُ عامرِ بن الطُّفَيل يَتهدَّدُني ويتهدَّدُ من يَأْوي إليَّ، وقد كَفَانيهِ اللهُ ﷿ بولدِ إسماعيلَ بابنَيْ قَيْلة"؛ يعني الأنصارَ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس طرح بیٹھا تھا کہ میرا گھٹنا آپ ﷺ کے گھٹنوں سے مس ہو رہا تھا، اتنے میں ایک آنے والا آیا اور اس نے آپ ﷺ کے کان میں کوئی بات کہی، جس سے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور غصے کی وجہ سے پیشانی کی رگیں ابھر آئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ عامر بن طفیل کا قاصد ہے جو مجھے اور میرے پاس پناہ لینے والوں کو دھمکیاں دے رہا ہے، حالانکہ اللہ عزوجل نے میرے لیے اسماعیل کی اولاد یعنی قبیلہ قیلہ کے دونوں بیٹوں (انصار) کے ذریعے اسے کافی کر دیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6398
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، عبد الله بن يزيد البكري ذكره ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 5/ 201 ونقل عن أبيه أنه قال فيه: ضعيف الحديث ذاهب الحديث. وشيخه إسحاق بن يحيى ابن طلحة متروك الحديث.» [ترقيم الرساله 6398] [ترقيم الشركة 6326]