المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6397
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا ابن جُرَيج، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن نافع بن سَرْجِسَ قال: عُدْنا أبا واقدٍ الليثيَّ في مرضِه الذي مات فيه، ومات فدفَنّاه بمكة في مَقبرة المهاجرين بفَخٍّ. وإنما سُمِّيت مقبرةَ المهاجرين، لأنه دُفِنَ فيها مَن مات ممَّن كان هاجَرَ إلى المدينة ثم حجَّ وجاوَرَ فمات بمكة، فكان يُدفَن في هذه المقبرة، منهم أبو واقدٍ اللَّيثي وعبد الله ابن عمر وغيرُهما، ومات أبو واقدٍ الليثي سنةَ ثماني وستين وهو ابن خمس وثمانين سنةً (1).
حافظ طلحہ بابر
نافع بن سرجس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابو واقد لیثی کی ان کے مرضِ الموت میں عیادت کی، جب ان کی وفات ہوئی تو ہم نے انہیں مکہ میں فخ کے مقام پر مہاجرین کے قبرستان میں دفن کیا، اسے مہاجرین کا قبرستان اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں ان لوگوں کو دفن کیا جاتا تھا جنہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی اور پھر حج یا قیام کی غرض سے مکہ آئے اور وہیں وفات پا گئے، ان میں ابو واقد لیثی اور عبداللہ بن عمر وغیرہ شامل ہیں، ابو واقد لیثی کی وفات سن 68 ہجری میں ہوئی جبکہ ان کی عمر 85 برس تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ورواه عن محمد بن عمر الواقديِّ ابنُ سعد في "الطبقات" 5/ 121، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 279. وبيَّن فيه أنَّ قوله: وإنما سميت مقبرة المهاجرين … " إلى آخره، هو من كلام الواقدي.
حوالہ / مصدر: اسے محمد بن عمر الواقدی سے ابن سعد نے "الطبقات" 5/ 121 میں روایت کیا ہے اور وہیں سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 67/ 279 میں نقل کیا ہے۔
اہم نکتہ: وہاں یہ صراحت موجود ہے کہ عبارت "وإنما سميت مقبرة المهاجرين..." (اور مہاجرین کے قبرستان کا نام اس لیے رکھا گیا...) سے آخر تک واقدی کا اپنا کلام ہے۔
وأخرج أوله أحمد 36 / (21899) و (21908) من طرق عن ابن جريج، عن ابن خثيم، عن نافع بن سرجس قال: عدنا أبا واقد في وجعه الذي مات فيه، فسمعه يقول: كان النبي ﷺ أخف الناس صلاة على الناس، وأطول الناس صلاة لنفسه. وإسناده حسن من أجل نافع بن سرجس، وقد صرح ابن جريج بسماعه من ابن خثيم.
حوالہ / مصدر: اس روایت کا ابتدائی حصہ امام احمد نے 36/(21899 اور 21908) میں ابن جریج عن ابن خثیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: نافع بن سرجس بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے جس بیماری میں ان کا انتقال ہوا، تو انہیں یہ فرماتے سنا: "نبی کریم ﷺ لوگوں کو نماز پڑھانے میں سب سے زیادہ ہلکی (مختصر) نماز پڑھاتے تھے اور اپنی ذاتی نماز سب سے طویل پڑھتے تھے"۔
درجۂ حدیث: اس کا اسناد نافع بن سرجس کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ابن جریج نے ابن خثیم سے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے محمد بن عمر الواقدی سے ابن سعد نے "الطبقات" 5/ 121 میں روایت کیا ہے اور وہیں سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 67/ 279 میں نقل کیا ہے۔
اہم نکتہ: وہاں یہ صراحت موجود ہے کہ عبارت "وإنما سميت مقبرة المهاجرين..." (اور مہاجرین کے قبرستان کا نام اس لیے رکھا گیا...) سے آخر تک واقدی کا اپنا کلام ہے۔
وأخرج أوله أحمد 36 / (21899) و (21908) من طرق عن ابن جريج، عن ابن خثيم، عن نافع بن سرجس قال: عدنا أبا واقد في وجعه الذي مات فيه، فسمعه يقول: كان النبي ﷺ أخف الناس صلاة على الناس، وأطول الناس صلاة لنفسه. وإسناده حسن من أجل نافع بن سرجس، وقد صرح ابن جريج بسماعه من ابن خثيم.
حوالہ / مصدر: اس روایت کا ابتدائی حصہ امام احمد نے 36/(21899 اور 21908) میں ابن جریج عن ابن خثیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: نافع بن سرجس بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے جس بیماری میں ان کا انتقال ہوا، تو انہیں یہ فرماتے سنا: "نبی کریم ﷺ لوگوں کو نماز پڑھانے میں سب سے زیادہ ہلکی (مختصر) نماز پڑھاتے تھے اور اپنی ذاتی نماز سب سے طویل پڑھتے تھے"۔
درجۂ حدیث: اس کا اسناد نافع بن سرجس کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ابن جریج نے ابن خثیم سے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6397 سے ماخوذ ہے۔