المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثني أبي، حدثنا هشام بن عمّار، حدثنا عبد الله بن يزيد البَكْري، حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني عمِّي موسى بن طلحة، حدثني أبو واقدٍ اللَّيثي قال: كنت جالسًا عند رسول الله ﷺ تَمسُّ رُكْبتي ركبته، فأتاه آتٍ فالتقَمَ أُذُنَه، فتغيَّر وجهُ رسول الله ﷺ وثارَ الدمُ إلى أساريرِه ﷺ، ثم قال: "هذا رسولُ عامرِ بن الطُّفَيل يَتهدَّدُني ويتهدَّدُ من يَأْوي إليَّ، وقد كَفَانيهِ اللهُ ﷿ بولدِ إسماعيلَ بابنَيْ قَيْلة"؛ يعني الأنصارَ (2).
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس طرح بیٹھا تھا کہ میرا گھٹنا آپ ﷺ کے گھٹنوں سے مس ہو رہا تھا، اتنے میں ایک آنے والا آیا اور اس نے آپ ﷺ کے کان میں کوئی بات کہی، جس سے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور غصے کی وجہ سے پیشانی کی رگیں ابھر آئیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ عامر بن طفیل کا قاصد ہے جو مجھے اور میرے پاس پناہ لینے والوں کو دھمکیاں دے رہا ہے، حالانکہ اللہ عزوجل نے میرے لیے اسماعیل کی اولاد یعنی قبیلہ قیلہ کے دونوں بیٹوں (انصار) کے ذریعے اسے کافی کر دیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کا اسناد "شدید ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن یزید البکری کو ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" 5/ 201 میں ذکر کیا اور اپنے والد سے نقل کیا کہ وہ "ضعیف الحدیث" اور "ذاہب الحدیث" (ساقط الاعتبار) ہے۔ نیز ان کے شیخ اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ "متروک الحدیث" ہیں۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1731)، والطبراني في "الكبير" (3299)، و "الأوسط" (6758) من طريق هشام بن عمار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (1731) میں اور امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (3299) اور "المعجم الاوسط" (6758) میں ہشام بن عمار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر حديث سلمة بن الأكوع الآتي برقم (7159).
متابعات و شواہد: حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کی حدیث نمبر (7159) بھی ملاحظہ کریں جو آگے آرہی ہے۔